خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 496

خطبات طاہر جلدے 496 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۸ء تقاضا یہ بہر حال نہیں ہے کہ آپ بد اخلاق ہو جائیں اور احتیاط کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ دوست کو دشمن بنالیں ۔ اس لئے اگر آپ کے سامنے کوئی اجنبی آتا ہے کہ میں جلسے میں شامل ہونا چاہتا ہوں تو ہرگز اس کے ساتھ بد خلقی نہیں کرنی ، بد کلامی نہیں کرنی اس کو نہیں کہنا کہ کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا آپ جائے اپنے کام پہ ٹکٹ کہاں ہے، ٹکٹ دکھائیے۔ آپ کا کام ہے اخلاق سے کا کام ہے اخلاق سے پوچھیں بتائیے کس طرح تشریف لائے کوئی واقف ہے یا نہیں ہے، پھر آپ تشریف رکھیں یا ان کو ساتھ لے جائیں۔ جہاں بھی متعلقہ انتظام ہے ان کے سامنے پیش کر دیں پھر ان کا کام ہے وہ ان کو سنبھالیں لیکن جو حق کی جستجو کے لئے آتا ہے اس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہئے جو ایک معزز مہمان کے ساتھ سلوک ہوا کرتا ہے۔ اس دوران میں اگر خدانخواستہ کوئی اور بات ہو تو ہم اس کے لئے بھی حاضر ہیں کیونکہ ہم اپنے اعلیٰ تقاضوں کو ادنی تقاضوں پر قربان نہیں کر سکتے لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ کون مہمان ہے اور کون بد نیت سے آیا ہے یہ آپ کا کام نہیں ہے ہر فرد بشر کا۔ یہ کام متعلقہ نظام کا ہے۔ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آپ اخلاق کے تقاضے پورے کرتے ہوئے متعلقہ ا رے کرتے ہوئے متعلقہ افراد تک ایسے دوستوں کو پہنچادیا کریں پھر وہ آپ ہی سنبھالیں گے۔ جلسے کے دوران تقاریر سننے کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے پچھلے جلسے میں بھی یہ محسوس کیا تھا اور غالباً ذکر بھی کیا تھا کہ وہ مہمان جو اردو نہیں جانتے ، دنیا میں جہاں سے بھی آتے ہیں ، اردو کے ترجمہ کا انتظام ہو یا نہ ہو جلسے کے دوران بڑے سلیقے کے ساتھ ، بڑے صبر کے ساتھ پورا وقت پابندی سے وہاں حاضر رہتے ہیں اور اردو جاننے والے ہمارے دوستوں کا یہ حال ہے کہ ادھر انگریزی میں یا کسی اور زبان میں بات شروع ہوئی وہیں کپڑے جھاڑ کے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ پہلے تو کپڑے جھاڑنے کی ضرورت اتنی نہیں تھی کیونکہ کرسیوں پر بیٹھا کرتے تھے۔ اس دفعہ زمین پر بیٹھنا ہے آپ نے اور مجھے ڈر ہے کہ واقعی کپڑے جھاڑیں گے اور وہاں کیا حال ہو گا آپ سوچیں کہ اچانک ایک اردو کی تقریر ختم ہوئی انگریزی کی تقریر کرنے والا آیا ہے اور چونکہ اکثریت اردو دانوں کی ہوگی وہ کپڑے جھاڑتے ، شور مچاتے وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ اس کے بہت سے بداثرات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ آنے والوں کے اخلاق پر آپ برا اثر ڈالتے ہیں۔ انہوں نے نظام جماعت کو بہت عمدگی سے سمجھا ہے اور بڑے اعلیٰ پیمانے پر اسے اپنے ممالک میں قائم کیا ہے ۔ وہ جلسے کے