خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 447
خطبات طاہر جلدے 447 خطبه جمعه ۲۴ جون ۱۹۸۸ء بہت سے لکھنے والے مجھے بارہا یہ لکھتے ہیں کہ ہمیں نماز میں مزہ نہیں آرہا پھر فائدہ کیا نماز کا۔ نماز میں خدا کی طرف دل نہیں جاتا تو پھر فائدہ کیا ایسی نماز کا۔ بعض یہاں تک بھی لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے نماز چھوڑ دی ہے اب کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بیچارے مریض ہیں ان کو اپنی کیفیت کا پتا نہیں اپنی بیماری کی شناخت بھی نہیں اس لئے وہ نہیں جانتے کہ کیا کرنا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا نے مسیحا بنایا تھا اس زمانے کے لئے ۔ آپ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہتے ہیں تو سوچتے ہی نہیں کہ آپ کی بیماریوں کی شفا کی خاطر خدا نے بھیجا ہے۔ مسیحا کے نسخے دیکھیں گے تو شفا پائیں گے خالی مسیحا کہنے سے تو شفا نہیں پا جائیں گے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کو ایک طبیب حاذق کی تحریروں کے طور پر پڑھا کریں۔ پھر آپ حیران ہوں گے کہ کتنے نسخے ہیں۔ میں تو حیران رہ جاتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں میں نسخوں کے انبار دیکھ کر یعنی ایک نسخہ نہیں ہے، دو نسخے نہیں ہیں جس طرح بیاضیں لکھی جاتی ہیں بعض بیماریوں پر اس طرح ایک ایک بیماری کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اتنے مختلف نسخے بیان فرما دیئے ہیں کہ ان سب کو اکٹھا جب انسان پڑھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ سارا بوجھ ہی میری ذات پر آپڑا ہے۔ میں کیسے یہ سارے نسخے استعمال کرلوں گا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مریض کے مرض کی تشخیص کے مطابق نسخے مختلف ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میرے اور آپ کے صرف معالج نہیں تھے اس سارے زمانے کے معالج بنا کر بھیجے گئے تھے۔ اس تمام زمانے کے لئے مسیح تھے اور امام الزماں تھے۔ اس لئے آپ کی کتب میں آپ کی تحریروں میں بے شمار مختلف قسم کے آپ کو نسخے ملیں گے آپ کا کام ہے اپنے لئے مناسب حال نسخہ چنیں اور پھر آپ کو جب آپ کہیں گے مسیح موعود تو پھر بڑا مزہ آئے گا کہ ہاں واقعی ! اس مسیحا سے میں نے بھی شفا پائی ہوئی ہے۔ تو آپ فرماتے ہیں: ” اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں ۔“ 66 کیسا عمدہ کلام ہے۔ ایک شخص جو عارف باللہ نہ ہو وہ کہے گا لعنت پڑے اس نماز پر چھوڑو اس نماز کو۔ اس نماز پڑھنے کا کیا فائدہ لیکن آپ جانتے ہیں کہ اسی نماز میں سے پھر وہ نماز حاصل ہوگی ۔ اسی کی کوک سے وہ نماز پیدا ہو گی جو اس وفا کے نتیجے میں خدا کے انعام کے طور پر ملتی ہے کہ مزہ نہیں آ رہا