خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 445

خطبات طاہر جلدے اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں : 445 خطبه جمعه ۲۴ جون ۱۹۸۸ء میں ترا در چھوڑ کر جاؤں کہاں چین دل آرام جاں پاؤں کہاں ( کلام محمود صفحه : ۱۰۴) اور در ہے ہی کوئی نہیں تو میں کہاں تلاش کروں اگر ہوتا بھی تو خیال بھی آتا کہ چلو یہاں نہیں وہاں چلے جائیں ۔ تو توحید حید اور ذکر کا گہرا تعلق ہے۔ تو حید آپ کو ذکر کی طرف دھکیلتی ہے اور ذکر آپ کے اندر توحید کی نئی شان پیدا کرتا ہے، تو حید کے نئے عرفان آپ کو بخشتا ہے۔ پس اس آیت میں تو حید اور ذکر کے گہرے تعلق کو بڑی شان کے ساتھ ، بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے اور اس تعلق کی بناء پر ہماری نمازیں زندہ ہو سکتی ہیں اور ہم شرک سے توحید کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ اس لئے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نمازوں کے متعلق جو عظیم الشان کیفیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تجارب کی روشنی میں میں آپ کے سامنے رکھوں گا اس سے گھبرائیں نہیں ۔ اپنی اپنی توفیق کے مطابق نماز کو یاد کا ذریعہ بنالیں اور جب بھی نماز میں جائیں یہ فیصلہ کریں کہ کوئی نہ کوئی نیا طریق اختیار کرتے ہوئے اپنی نماز میں اللہ کی یاد کو ضرور بسانا ہے اور جب نماز سے نکلیں تو یہ سوچ لیا کریں کہ اس نماز میں آپ نے کتنا خدا کو یاد کیا تھا، کس رنگ میں یاد کیا تھا۔ اگر داخل ہونے سے پہلے یہ عہد کریں اور نکلتے وقت یہ سوچ لیا کریں تو ہر روز آپ کو شروع شروع میں بہت سی ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ بعض دفعہ مسلسل آپ گھبرا اٹھیں گے دیکھ کر کہ اکثر نمازیں خالی گزر گئیں اور پھر رفتہ رفتہ خدا توفیق بڑھا تا چلا جائے گا۔ وہ توفیق کیسے بڑھتی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بھی کافی روشنی ڈالی ہے۔ وہ آپ ہی کے الفاظ میں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ فرماتے ہیں: جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لئے ہو تو اس کا نام صلوٰۃ نہیں“ یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے سمجھنے والا کیونکہ بہت سے لوگ بار ہا مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے تو فلاں ضرورت کے لئے ہی نماز پڑھ لی ہیں بہت رو رو کے دعائیں کی ہیں کوئی نہیں سنتا خدا۔ بعض بچے جو سکول امتحان دے رہے ہیں آج کل وہ بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے تو پوری نمازیں شروع کی ہوئی ہیں امتحان کی خاطر اور بڑی دعائیں کرتے ہیں مگر خدا کوئی نہیں سنتا بالکل بھی۔ آپ کو وہم ہے کہ خدا سنتا