خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 428
خطبات طاہر جلدے 428 خطبه جمعه ۱۰رجون ۱۹۸۸ء خاص ہوتے ہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور اسے قبول نہ کیا اور اس کو کراہت کی نظر سے دیکھا اور اپنے تئیں بڑا سمجھا اور اس کا حکم ہونا اپنے لئے قبول نہ کیا بلکہ اس کو پکڑ کر بے عزت کیا اور اس کے منہ پر تھوکا اور اس کے مارنے کیلئے دوڑے اور بہت سی تحقیر و تذلیل کی اور بہت سی سخت زبانی کے ساتھ اس کو جھٹلایا۔ تب وہ ان کے ہاتھ سے وہ تمام آزاراٹھا کر جو اس کے حق میں مقدر تھے اپنے بادشاہ کی طرف واپس چلا گیا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کا ایسا برا حال کیا کسی اور حاکم کے آنے کے منتظر بیٹھے رہے اور جہالت کی راہ سے اسی خیال باطل پر جمے رہے کہ یہ تو حاکم نہیں تھا بلکہ وہ اور شخص ہے جو آئے گا جس کی انتظاری ہمیں کرنی چاہئے۔ سو وہ سارا دن اس شخص کی انتظار کئے گئے اور اٹھ اٹھ کر دیکھتے رہے کہ کب آتا ہے اور اس وعدہ کا باہم ذکر کرتے رہے جو بادشاہ کی طرف سے تھا۔ یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے سورج غروب ہونے لگا اور کوئی نہ آیا۔ آخر شام کے قریب بہت سے پولیس کے سپاہی آئے جن کے ساتھ بہت سی ہتھکڑیاں بھی تھیں۔ سو انہوں نے آتے ہی ان شریروں کے شہر کو پھونک دیا اور پھر سب کو پکڑ کر ایک ایک کو ہتھکڑی لگا دی اور عدالت شاہی کی طرف بجرم عدول حکمی اور مقابلہ ملازم سرکاری چالان کر دیا۔ جہاں سے انہیں سزائیں مل گئیں۔ جنکے وہ سزاوار تھے۔ سو میں سچ سچ کہتا ہوں یہی حال اس زمانے کے جفا کار منکروں کا ہو گا ہر ایک شخص اپنی زبان اور قلم اور ہاتھ کی شامت سے پکڑا جائے گا جس کے کان سننے کے ہوں سنے ۔“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۱۹۱-۱۹۰)