خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 37

خطبات طاہر جلدے 37 خطبه جمعه ۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء گزشتہ چند سالوں کی مالی تحریکات اور ان پر جماعت کی بے نظیر قربانیوں کا ذکر ( خطبه جمعه فرموده ۱۵ جنوری ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ جمعہ میں میں نے صد سالہ اظہار تشکر کے سال کا ذکر کیا تھا کہ بہت قریب آ رہا ہے اور ہمیں اظہار تشکر کی ہر رنگ میں تیاری کرنی چاہئے ۔ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ سب سے زیادہ اور سب سے زیادہ دیر پا احسان جو خدا تعالیٰ اپنے بندہ پر فرماتا ہے وہ قربانی کا اجر نہیں بلکہ خود قربانی کی توفیق ہے کیونکہ قربانی کی توفیق انسان کو اور اس کی روح کو جو دائمی عظمت عطا کرتی ہے اس سے بڑا کوئی اجر ہو ہی نہیں سکتا جس کا انسان تصور کر سکے اور ہر اجر کی بناء وہ بن جاتی ہے، ہر اجر کے حصول کا ذریعہ قربانی بن جاتی ہے۔ لیکن اجر سے بے نیاز خود قربانی اپنی ذات میں اتنی راجر عظیم عطا ہے کہ اسے نظر انداز کر کے صرف اجر پر نگاہ رکھتے ہوئے یا بغیر اجر ، بغیر محنت کے دوسری عطا پر نظر رکھتے ہوئے اظہار تشکر کرنا اس اظہار تشکر کو خام اور نامکمل بنا دے گا۔ اور اس وقت تک خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ہر میدان میں جو مختلف قربانیوں کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ آغا ز احمدیت سے لیکر اب تک ہر سال خدا تعالیٰ کے فضل سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینے کے نتیجہ میں مذہب کا آسمان نئے رنگ میں سنوارا اور سجایا جا رہا ہے اور احمدیت کی قربانیوں کے چاند ستارے ایک نئے آسمان کو جنم دے رہے ہیں ۔ اس لئے جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ایک نئی زمین بنا اور ایک نیا