خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 404

خطبات طاہر جلدے 404 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء پھر وہ شرعی عدالت کے حج یہ لکھتے ہیں احمد یہ تحریک کو انگریزوں کی اشیر باد حاصل تھی اور ان کے اشارے پر ان کے زیر سایہ شروع کی گئی وہی جواب ہے جو پہلے بار ہا دے چکا ہوں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ اگر تم میں جرات ہے اور تم میں کوئی شرافت باقی رہ گئی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ واقعی تم نے اپنی اسلامی شریعت کی کورٹ پر بیٹھ کر عدلیہ کے حق ادا کئے ہیں اور ان سب باتوں میں جو میں نے بیان کی ہیں تم مفتری نہیں ہو بلکہ جماعت احمد یہ مفتری ہے تو پھر اس چیلنج کو قبول کرو اور اعلان کرو اور پھر دیکھو کہ خدا کی تقدیر تم سے کیا سلوک کرتی ہے۔ تم لیکن میں یہ سمجھتا ہوں اور ایک دفعہ پھر میں کوشش کرتا ہوں کہ یہ لوگ اپنی ان حرکتوں سے باز آجائیں اور اس مباہلہ کے چیلنج کو قبول نہ کریں ۔ ہم تو یہ اعلان کر ہی چکے ہیں اور ہم پوری جرات اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اعلان کرتے ہیں۔ ببانگ دہل تمام دنیا میں یہ اعلان کر رہے ہیں لیکن میں اپنے مخالفین کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ تم خدا کا خوف کرو اور اس مباہلہ کو قبول کرنے میں جلدی نہ کرو اور اتنی ہی عقل کا نمونہ دکھاؤ جتنی عقل نجران کے نمائندہ عیسائیوں کے وفد نے دکھائی تھی اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے چیلنج کو قبول کرنے سے باز رہے تھے اور حیا کی تھی لیکن اگر تم نے اصرار کیا تو میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا کی تقدیر ظاہر ہو گی اور پھر اُس کو تم نہیں روک سکو گے۔ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں آخر پر چند صیحتیں کر کے اس خطاب کو ختم کروں گا۔ آپ فرماتے ہیں:۔ ” میں نصیحتنا للہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں اور رو روکر میرا استیصال چاہیں ۔ پھر اگر میں کاذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے ہلکے گل جائیں اور