خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 358
خطبات طاہر جلدے 358 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء اور غیر کی طرف غیر کی چیزوں کی طرف لالچ کی نظر نہ ڈالنا بلکہ کوشش یہ کرنا کہ آپ دوسروں کے حقوق ادا کرنے والے ہوں خواہ آپ کو حقوق چھوڑ نے پڑیں۔ یہ با یہ بالکل ایک مختلف رخ ہے جس کا دنیا میں کوئی تصور نہیں ہے۔ سارا قرآن کریم ایثار کی تعلیم سے بھرا پڑا ہے وہ یہی تعلیم ہے کہ تم یہ کوشش کرو کہ تمہاراحق چاہے رہ جائے لیکن تمہارے بھائی کا حق نہ رہے تمہارے اوپر ۔ اس لیے یہ اسی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ تم حق سے زیادہ ادا کرنے کی کوشش کرو۔ پس جس آزادی کا یہ مضمون بیان ہوا ہے وہ اس قسم کی آزادی ہے جس کے لیے جماعت احمد یہ کو اپنے نفس سے بھی کوشش کرنی ہوگی اور غیروں میں اس آزادی کی تعلیم کو وضاحت کے ساتھ پیش بھی کرنا ہوگا اور جہاں جہاں ممکن ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ جماعتی پروگراموں کے ذریعے بھی غریب قوموں کی آزادی کے لیے جماعت کوشاں ہو گی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس سلسلے میں منصوبے کچھ بن چکے ہیں ، کچھ بن رہے ہیں اور آئندہ میں اُمید رکھتا ہوں کہ اگلے سو سال میں جماعت احمدیہ احمد یہ کو اس پہلو سے عظیم الشان خدمت بنی نوع انسان کی توفیق ملے گی ۔ اس ضمن میں میں آپ کو ایک دفعہ پھر اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ فَكُ رَقَبَةٍ صرف غربت کو دور کرنا نہیں ہے۔ فَل رَقَبَةِ کا مضمون بہت ہی وسیع ہے اور یہ مضمون كلية لا اله الا اللہ کے مضمون سے ہم آہنگ ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس لیے یہ مضمون غربت کے معاملے میں بھی دوسرے فلسفوں کے تصور سے بہت زیادہ بالا اور بلند تر ہے لیکن اپنے دائرے میں اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے کہ آپ اسے صرف محدود طور پر غریبوں کی خدمت کے رنگ میں دیکھیں یا غریب قوموں کو اقتصادی غلامی سے آزاد کرنے کے رنگ میں دیکھیں ۔ یہ مضمون ہے انسان کو ہر اُس احتیاج سے آزاد کرنے کا مضمون جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف اُس کی نظر ہو اُس کو کسی اور کا دست نگر ہونا پڑے۔ چنانچہ قرآن کریم کی تعلیم انسان کو کلیہ ان باتوں سے آزاد کرتی ہے اور اس کا Morality سے بڑا گہرا تعلق ہے ، اس کا اخلاقیات سے بہت گہرا تعلق ہے۔ کوئی شخص جو اعلیٰ اخلاق پر فائز نہ ہو وہ حقیقت میں آزاد نہیں ہو سکتا اور جو شخص حرص و ہوا کا محتاج ہوگا وہ اُسی حد تک غیر اللہ کی طرف جھکنے پر مجبور ہوگا۔ یہ وہ وسیع تر مضمون ہے جس کے او پر مزید غور کی ضرورت ہے، مزید فکر کی ضرورت ہے اور روزمرہ اپنے نفوس کا جائزہ لینے کی ضرورت