خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 341
خطبات طاہر جلدے 341 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء غرباء تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس سے تو ان کو دنیا میں کوئی روک نہیں سکتا اور اگر روکنے کی کوشش بھی کرے گا تو کم سے کم نیک فرض کی ادائیگی کی کوشش بھی تو ایک تسکین کا موجب بن سکتی لیگی کی کوشٹ بھی تو ایک تسکین کا موجب بن سکتی کا سیتی ہے۔ آپ کوشش کریں اور اپنی عید میں ان غریبوں کو شامل کریں۔ میں نے پہلے بھی ایک دفعہ اس قسم کی تحریک کی تھی اور اُس کے بعد بھی مجھے اطلاع ملتی رہیں ، خصوصیت سے مجھے یاد ہے۔ پچھلے سال راولپنڈی کی طرف سے بھی اطلاع ملی تھی کہ ہم نے اُس بات کو یا د رکھا ہے اور اپنی عید میں غرباء تک پہنچتے رہے ہیں اور بہت اُس کا لطف اُٹھاتے ہیں ۔ اس لیے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں آپ کو تکلیف نہیں ہو گی بلکہ آپ کو عید کا ایک نیا لطف حاصل ہوگا۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ خدا کے دُکھیا بندوں کے دُکھ دور کرنے میں کتنا لطف ہے اور جو مزے اُس کے ہیں وہی اصل حقیقی عید ہے، وہی دائمی عید ہے۔ آپ اُن تک پہنچنے کی کوشش کریں آپ کو شروع میں شاید کوفت بھی ہو کہ کیا مشکل میں ڈال دیا اپنے گھر میں مزے سے بیٹھ کر عید کرتے۔ آپ کہتے ہیں کہ گھر چھوڑ واور غریبوں تک پہنچو اور مظلوموں تک لیکن آپ پہنچو جا کے تو دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے کہ اتنا لطف آئے گا آپ کو اُس عید کا ۔ دُکھ دور کرنے میں جو آپ کو لذت محسوس ہو گی ایسی ہو گی کہ آپ کی ساری عیدوں کی خوشیاں اُس ایک عید کی خوشی میں برابر نہیں ہو سکیں گی۔ ہمیشہ آپ لذت سے یاد کیا کریں گے اور پھر خدا کے فضل کی نظریں بھی آپ پر پڑیں گی اُس کی رحمت کی نظریں آپ پر پڑیں گی۔ اس لیے ان غریبوں تک پہنچیں لیکن تبلیغ کی نیت سے نہیں۔ یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ آپ اس نیت کو ساتھ باندھ لیں کہ ساتھ تبلیغ بھی ہو جائیگی ۔ اس طرح آپ اپنے کام کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس وقت مقصد بالکل واضح ہونا چاہیے کہ تیموں يَتِيمًا ذَا مَقْرَبَةِ أَوْ مِسْكِينَا ذَا مَتْرَبَةِ (البلد : ۱۲-۱۷) جو قرآن کریم میں نقشہ کھینچا ہے اس میں کوئی اور نیت شامل نہیں ہو سکتی ۔ خالصہ اللہ رضائے باری تعالیٰ کے حصول کے لیے آپ نے صرف غریب کی مظلوم کی اور یتیم کی خدمت کرنے کی کوشش کرنی ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (الدھر: 9) الله تعالى فرماتا ہے کہ جب وہ مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں تو یہ مراد نہیں ہوتی کہ پھر وہ اُن کو اسلام کی دعوت دیں گے یا ہدایت کی طرف بلائیں گے۔