خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 336
خطبات طاہر جلدے 336 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء جماعت سے سے کوئی غلطی ہو تو اعتراضات کا نشانہ بنایا جائے ، اُن کے۔ انشانہ بنایا جائے ، اُن کے لیے زبان کھولنے کے موقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ خواہ اللہ کے نزدیک وہ غلطی اس نوعیت کی ہو کہ اُس میں بندے کا قصور نہ ہو، اللہ تعالیٰ عفو کا سلوک فرمائے لیکن بندے تو معاف نہیں کرتے یعنی بعض قسم کے بندے معاف نہیں کرتے۔ ویسے بھی لطف نہیں رہے گا ، ہمارا اپنا لطف کر کرا ہو جائے گا اگر اتنی محنت کے بعد ایک تحفہ دنیا کو پیش کریں اور اُس میں بعض بنیادی غلطیاں رہ جائیں ۔ اس لیے باوجود اس کے کہ سب تراجم مکمل ہو چکے ہیں یعنی احادیث تک ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے اقتباسات کے تو ابھی ہو رہے ہیں۔ لیکن اُن پر نظر ثانی پھر نظر، تیسری، چوتھی نظر ، پھر پانچویں نظر ، پھر پریس میں اُن کا بھیجنا اور بار بار بلانا منگوانا اور پھر اُن کو مواز نہ کرنا اصل کے ساتھ ، پھر یہ دیکھنا کہ پریس نے وہ غلطیاں ٹھیک کروائی بھی ہیں کہ نہیں ۔ یہ تقریباً ایک سو چودہ زبانوں میں کام ہو رہا ہے بلکہ کل کی رپورٹ کے مطابق تو ایک سو چودہ سے بھی آگے نکل گئی ہیں زبانیں ، ایک سوسترہ تقریبا ہیں زبانیں جن میں کام ہو رہا ہے اور اس وقت جو ممالک ہیں جن میں جماعت احمد یہ قائم ہو چکی ہے اس وقت نہیں کہنا چاہئے گزشتہ سالوں کے جلسہ تک ایک سو چودہ تھے تو اب کچھ مزید ممالک میں بھی احمدیت قائم ہوئی ہے۔ تو میرے ذہن میں جو بات تھی کہ کم سے کم سو زبانوں میں تو ترجمہ ضرور ہو جو سو سال کی نشاندہی کرتا ہو اور پھر اگر ممکن ہو تو جتنے ممالک میں احمدیت قائم ہو چکی ہے۔ اُن کے لحاظ سے اُتنی ہی زبانوں میں تراجم ہم پیش کر سکیں ۔ تو یہ دونوں باتیں قریب قریب پہنچ چکی ہیں ۔ یعنی ہمارے جس طرح پیاسا پیالے کے پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو بالکل ہاتھ وہاں پیالے کو پکڑنے کے قریب پہنچا ہوتا ہے اُس طرح کی کیفیت ہے۔ لیکن اس ہاتھ اور اُس پیالے کے درمیان ابھی پتا نہیں خدا کی کتنی تقدیریں ہیں۔ کتنی ہماری غلطیاں ہیں جو ٹھو کر پیدا کر سکتی ہیں ۔ اس لیے خصوصیت سے اس پہلو کو دعا میں یاد رکھیں کہ وہ سارے نیک پروگرام جو محض اللہ خالصہ اللہ شروع کئے گئے ہیں وہ نیک انجام تک پہنچیں اور کوئی ہماری لغزش اُن کے حُسن میں کوئی خرابی پیدا نہ کر سکے، نیک انجام کو پہنچیں اور احسن ہوں جیسا کہ اس آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ احسن کی تلاش جہاں بھی ہو سکتی ہے ہمیں کرنی چاہئے اور اس پہلو سے خدا تعالیٰ اگر توفیق دے گا تو ان چیزوں میں کامل حُسن پیدا ہوگا۔ پھر یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وسائل کو وسیع کرے، ہمارے ذرائع کو وسیع کرے۔ یہ کام کرنے کے بعد پھر اس کی اشاعت