خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 333

خطبات طاہر جلدے 333 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء میں اب کوئی دیوار حائل نہیں ہے۔ پس اس رمضان کو اس رنگ میں استعمال کرنا کہ ہم اپنی برائیوں کی کینچلیاں پیچھے چھوڑ جائیں اور رمضان کے کانٹے کیونک تلخی بھی کانٹے کہلاتی ہے۔ اُن کینچلیاں ہم سے نوچ لیں ، ہماری جلدوں سے اُتار لیں اور نئی پاکیزہ زندگی کی جلد پھر نکلے ہمارے جسم میں سے اور اگلی اتارلیں اورنی جلد صدی میں ہم نسبتاً زیادہ صاف اور پاک ہو کر داخل ہوں ۔ اس رمضان مبارک کو اس رنگ میں بھی استعمال کرنا چاہئے۔ پھر آج کا جمعہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ جمعۃ الوداع کہلاتا ہے۔ رمضان رخصت ہو رہا ہے اور آخری جمعہ ہے جو رمضان میں آیا ہے ۔ لیکن احمدیوں کے لحاظ سے تو اس کو ایک عظیم الشان اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ جمعہ ہے جس کے ساتھ صدی رخصت ہوگی اور یہ اس صدی کا آخری جمعۃ الوداع ہے جو احمدیت کی پہلی صدی ہے۔ اس لیے اس جمعہ کو بھی ایک غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور میں خدا سے اُمید رکھتا ہوں کہ اس جمعہ کی دعا ئیں خصوصیت کے ساتھ مقبول ہوں گی ۔ ویسے بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ جمعہ اور سورج کے غروب کے درمیان ایسی گھڑی ہوتی ہے جو خصوصیت کے ساتھ دعا کی مقبولیت کی گھڑی ہے ( ابوداؤ د کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۸۸۴ ) ۔اس لیے بعد جمعہ غروب تک خدا کے ذکر میں وقت گزارنا چاہئے ۔ تا کہ وہ خوش نصیب گھڑی حاصل ہو جائے جس صلى الله علي وسه کے نتیجے میں انسان کے مقدر بدل سکتے ہیں۔ صلى الله پھر ایک رات آنے والی ہے آج کی رات جو ستائیسویں کی رات ہوگی۔ اور یہ ستائیسویں رات بھی رمضان مبارک کے آخری عشرہ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ ویسے تو آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان کی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو۔ لیکن پھر مزید وضاحت یہ فرمائی کہ آخری دس راتوں میں سے طاق راتوں میں تلاش کرو ( بخاری کتاب الصلوۃ التراویح حدیث نمبر ۱۸۷۷) ۔ پھر ایک موقع پر حضرت عمرؓ کی روایت ہے کہ بعض صحابہ نے رویا کے ذریعے ایک ہی خاص رات کو دیکھا کہ اس رات میں لیلۃ القدر ہو گی۔ تو اُس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب اتنے لوگوں کو خدا نے یہ خوشخبری دکھائی ہے تو پھر اسی رات کولیلۃ القدر ہو گی ( بخاری کتاب الصلوۃ التراویح حدیث نمبر : ۱۸۷۶) لیکن اُس کا یہ مطلب نہیں ہمیشہ - کے لیے اُسی رات کولیلۃ القدر آ کر ٹھہر جانی تھی اور ہمیشہ اُسی رات میں ظاہر ہوئی تھی۔ مراد یہ تھی کہ اُس