خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 322

خطبات طاہر جلدے 322 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء پھر ایک تیسرے قسم کے بد نصیب وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت میں فرمایا: وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوْتُوْنَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (النساء : ١٩) کہ تو بہ ان کے لیے نہیں ہے تو ان کی تو یہ کیا معنی رکھتی ہے جو مسلسل بدیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت اُن کو آلیتی ہے اس وقت وہ کہتے ہیں اِنِّي تُبْتُ السن اے خدا اب میں تو بہ کرتا ہوں وَلَا الَّذِينَ يَمُوْتُوْنَ وَهُمْ كُفَّارُ اور نہ ان کے لیے کوئی تو بہ ہے جو کامل غفلت کی حالت میں زندگی اس طرح گزار دیتے ہیں کہ موت آتی ہے تو وہ انکار کی حالت میں ہوتے ہیں ، کفر کی حالت میں اُن پر موت آجاتی ہے۔ پہلے مضمون میں خدا کے وہ کمزور بندے ہیں جو ایمان لانے کے باوجود کمزور رہتے ہیں اور توبہ سے غافل رہتے ہیں۔ دوسرے حصے میں وہ لوگ بیان ہوئے ہیں جو کفر کی حالت میں مر جاتے ہیں ۔ فرمایا ان کے لیے کوئی تو بہ نہیں ہے أُولَئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی اس کی وجہ کیا ہے کہ اُن کے لیے تو بہ کوئی نہیں ۔ اس کی وجوہات بھی قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں ۔ فرمایا ایک تو یہ کہ پہلی دفعہ انہوں نے موت کو نہیں دیکھا ۔ بار بار خدا نے مختلف زندگی کی حالتوں میں ان کو موت کے قرب کے نمونے چکھائے اور بار بار ان کی توجہ تو بہ کی طرف کروائی گئی اور توبہ کا موقع پانے کے باوجود پھر یہ شدت کے ساتھ اپنی پہلی حالتوں کی طرف لوٹ جاتے رہے ۔ چنانچہ فرمایا أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ (التوبہ: ۱۲۶) کہ وہ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ان میں سے ہر شخص ایک دفعہ یا دو دفعہ ایسے ابتلاؤں میں ڈالا جاتا ہے کہ جس کے نتیجے میں ان کی طبیعت تو بہ کی طرف مائل ہو جانی چاہئے ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ اس کے باوجود تو بہ نہیں کرتے وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُونَ اور کوئی نصیحت نہیں پکڑتے۔ پھر فرمایا جب ان کی حالت دائمی ہو جاتی ہے اور گناہ اُن کی زندگی کا جزولاینفک بن جاتا ہے ۔ اس وقت اُن پر موت آتی ہے اس لیے پھر خدا تعالیٰ اُن کی توبہ قبول نہیں کرتا کیونکہ وہ اپنے