خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 317

خطبات طاہر جلدے 317 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء قِرَدَةً خَسِينَ میں بھی یہ مضمون ہے اور شـر مـن تـحـت اديم السماء (مشكوة كتاب اعلم والفضل صفحہ: ۳۸) میں بھی یہی مضمون ہے۔ کہ پھر یہاں ٹھہرتے نہیں ہیں وہ لوگ بلکہ بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ساری حیوانی کمزوریاں جن کو وہ اپنے طویل ماضی کے سفر میں پیچھے چھوڑ آئے تھے وہ دوباره اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں اور روحانی لحاظ سے حیوان صفت ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ مضمون بہت ہی لمبا ہے میں نے جیسا کے کہا تھا کہ میں انشاء اللہ چند نمونے آپ کے سامنے رکھوں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی عبارتوں کی مدد سے آپ کو یہ مضمون سمجھاؤں گا۔ اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ استغفار کا مضمون اتنا وسیع ہے کہ روحانی لحاظ سے ہی صرف فوائد کا موجب نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے اور کثرت استغفار سے آر مار سے آپ کو ہر قسم کے منافع حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اپنی دعاؤں میں استغفار کو غیر معمولی طور پر پیش نظر رکھا کریں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ استغفار پڑھنے سے گناہ کی تحریک مٹ جاتی ہے اور نیکی کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے۔“ اس لیے بجائے اس کے کہ اُس مقام پر راضی رہیں کہ گناہ بار بار ہو اور بار بار مغفرت کے طالب رہیں یہ مقام محفوظ یا مقام عصمت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور یہ استغفار کے ذریعے نصیب ہو سکتا ہے کہ گناہ کی تحریک مٹنی شروع ہو جائے اور نیکی کی طرف رغبت ایک فطری جوش کے طور پر پیدا ہونی شروع ہو۔ پھر فرمایا ۱۹۰۶ ء کی بات ہے یہ روایت بھی سیرت المہدی میں ہے کہ ۱۹۰۶ء کی بات ہے کہ ایک سائل نے جو اپنے آپ کو نو شہرہ ضلع پشاور کا بتاتا تھا اور مہمان خانہ قادیان میں مقیم تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھا کے میری مدد کی جائے مجھ پر قرضہ ہے۔ آپ نے جواب لکھا کہ قرض کے واسطے ہم دعا کریں گے اور آپ بہت استغفار کریں اور اس وقت ہمارے پاس ایک روپیہ ہے جو ارسال ہے ۔ (سیرۃ المہدی جلد اول روایت نمبر ۸۰۷ صفحه : ۷۳۵ ) وو 66 ایک روپیہ جو کچھ بھی تھا آپ کے پاس وہ آپ نے دے دیا۔ جانتے تھے کہ اُس روپے سے تو اُس کے قرضے نہیں اتر سکتے فرمایا یہ میرا سرمایہ سارا یہی تو نہیں میرے پاس ، میرے پاس تو خدا کے حضور التجاؤں کا سرمایہ ہے۔ چنانچہ اس سرمائے ۔ رمائے سے میں تمہاری مدد کروں گا لیکن تم اپنی مدد استغفار کے ذریعے کرو۔