خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 26

خطبات طاہر جلدے 26 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۸ء ممالک کی بیماریاں اور ہیں بعضوں کو کسی خاص پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے کسی خاص پہلو کی ضرورت ہے اس لئے یہ تو ممکن نہیں ہوگا کہ اس تھوڑے سے عرصہ میں دنیا کے ہر ملک میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے تمام پہلو پوری طرح بیان کئے جاسکیں لیکن بعض ممالک کے لئے بعض حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے خاص پہلوؤں کو نمایاں کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے جماعت کو ایسے کاموں کے لئے لازماً منصوبے کے تحت کام کرنا ہوگا اور ہر ملک کا اپنا منصوبہ ہوگا کیونکہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انگلستان میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے کون سے پہلوؤں کی ضرورت ہے اس کا فیصلہ انگلستان کے لوگ بہتر طور پر کیسے کر سکتے ہیں۔ یہ مطلب ہر گز نہیں کہ باقی سیرت کے پہلوؤں کی ضرورت نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ اقتضائے حال کے مطابق ماحول اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر کس پہلو سے زیادہ تشنگی محسوس ہو رہی ہے، کسے اولیت دیتے ہوئے پہلے بیان کرنا ضروری ہے اور ایک دفعہ سیرت کا مضمون شروع ہو جائے اور اس سے تعلق پیدا ہو جائے تو پھر یہ مضمون تو مکمل ہوئے بغیر رہتا ہی نہیں۔ خود اپنی طلب پیدا کر دیتا ہے مزید کی طلب پیدا کرتا ہے اور یہ جو مزید کی طلب ہے یہ بدی میں بھی قوت پائی جاتی ہے لیکن نیکی میں بھی قوت پائی جاتی ہے۔ ہر بدی مزید کی طلب پیدا کرتی ہے اسی طرح ہر سچی نیکی بھی مزید کی طلب پیدا کرتی ہے اور درمیانی جو حالات ہیں وہ بالکل بے معنی ہیں جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں ۔ دو ہی حقیقتیں ہیں اگر سچی نیکی ہے تو اور نیکی کی طلب ضرور پیدا ہوگی ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المومنون : ۹۸) اس آیت میں بھی اور دیگر آیات میں بھی یہ مضمون بیان ہوا ہے۔ اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (هود:۱۱۵) کہ نیکیاں بدیوں کو کھا جاتی ہیں اور نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں اور نیکیاں نیکیوں کو پیدا کرتی ہیں اس قسم کے مضامین قرآن کریم میں کثرت سے بیان فرمائے گئے ہیں۔ تو اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے جلسے اگر سچے دل سے منائے جارہے ہوں محبت اور پیار کے نتیجے میں منائے جارہے ہوں تولا ز ما مزید کی طلب پیدا کریں گے اور جو مضمون بھی سیرت کا بیان ہوا اگر وہ سچا ہو اور پُر خلوص ہو تو اس کے نتیجے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت بڑھتی چلی جائے گی اور سیرت کے دیگر پہلوؤں سے طبعا اتنا پیار ہو جائے گا کہ انسان ان کو مزید حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔