خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 294

خطبات طاہر جلدے 294 خطبه جمعه ۲۹ را پریل ۱۹۸۸ء طرف بھی توجہ ہوگی اور ان کے استغفار میں لطافتیں ہوں گی ۔ ایسے باریک مضمون داخل ہو جائیں گے جس کا وہم و گمان بھی کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جو یہ تین جھوٹ والی حدیث بیان کی جاتی ہے یا تو یہ حدیث ہی غلط ہے کیونکہ خدا کہ نبی تو جھوٹ نہیں بولا کرتے یا پھر انہی معنوں میں وہ حدیث سچی ہے کہ تم لوگ جس چیز کو کامل سچائی سمجھتے ہو بعض انبیاء اتنا روشن ضمیر رکھتے ہیں کہ ان کے اندر بھی بعض ایسے پہلو پائے جاتے ہیں کہ اُن کے معیار کے مطابق وہ سچائی نہیں ہو سکتی سچائی نہیں کہلاتی اور یہ جو مضمون ہے یہ جب آگے بڑھ جاتا ہے تو ایسے لوگ جو بہت ہی بار یک نظر سے اپنے بعض بیانات کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید یہ سچ کے معیار پر پورا نہ اترا ہو وہ لوگ خدا کی نظر میں صدیق کہلا رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہی ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام جن کے متعلق حدیث سے پتا چلتا ہے کہ تین مواقع پر گویا انہوں نے جھوٹ بولے وہاں لفظ گویا کو داخل کرنا ضروری ہے اُسی ابراہیم کے متعلق قرآن کریم گواہی دیتا ہے کہ صدیق نبی تھا۔ پس یہ جو اعتراف حقیقت ہے اس کا تعلق صداقت سے بھی ہے اور اسحار سے بھی ہے اس لیے اس رمضان میں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ صداقت نصیب ہو بعض لوگوں کو صداقت صرف یہ دکھائی دیتی ہے کہ دوسرے کی کمزوریوں پہ نظر رکھیں اور چونکہ عالم الغیب نہیں ہیں وہ بعض دفعہ جہاں کمزوریاں دیکھ رہے ہوتے ہیں وہاں کمزوری نہیں ہوتی بلکہ کوئی اور وجہ ہوتی ہے اور یہ نہیں سمجھتے کہ وہ شخص جو اپنی کمزوری نہیں دیکھ سکتا اس کو یہ توفیق کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ کسی دوسرے کی کمزوری دیکھ سکتے ۔اس لیے روشن ضمیری ضروری ہے گناہوں کے اعتراف کے لیے اور دوسرے کی کمزوریاں نہیں دکھائی دے سکتیں حقیقی معنوں میں اور سچے معنوں میں جب تک انسان اپنی کمزوریاں دیکھنے کا اہل ثابت نہ ہو۔ پس اپنے وجود کی طرف توجہ کریں بجائے اس کے کہ دوسرے کے وجود کی طرف توجہ کریں اور رمضان مبارک میں یہ اندرونی روشنی حاصل کرنے کی کوشش کریں جس کے نتیجے میں آپ کو خدا تعالیٰ نئی صبحیں عطا فرما تا چلا جائے گا۔ اب میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات اور بعض واقعات کی روشنی میں اس مضمون پر کچھ اور روشنی ڈالتا ہوں۔ یہ قرآن کریم کے جتنی صفیں سے میں آپ کو دکھا رہا ہوں یہ سب قرآن کریم کی وہ آیات ہیں جو اس مضمون کے مختلف پہلوؤں پر روشنی