خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 23

خطبات طاہر جلدے 23 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۸۸ء سارے سلسلہ کے کارکنوں کو توفیق عطا فرمائے کہ حتی المقدور خدا کی رضا کے مطابق جس حد تک بھی تحسین کے ساتھ ممکن ہے اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے کے لئے کوشش کریں اور ساری جماعت کو اس کے لئے تیار کریں۔ پھر جو خامیاں رہ جائیں گی۔ سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را کے تابع اس خدا کے حوالہ ہیں جو بہت ہی رحم کرنے والا، بہت ہی مغفرت کرنے والا، بہت ہی غفلتوں سے صرف نظر کرنے والا اور پردہ پوشی کرنے والا ہے۔ اس منصوبہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ میں گزشتہ چند سالوں سے جماعت کو بار بار بعض خصوصی نصیحتیں کر رہا ہوں کہ اصل تشکر کا اظہار تو وہ کچھ بننے میں ہے جو خدا تعالیٰ ہمیں بنانا چاہتا ہے اور اگر وہ ہم نہ کریں تو دوسرے تمام اظہار بے معنی اور لغو اور کھوکھلے ہو کر رہ جائیں گے۔ اس لئے جماعت کومن حيث الجماعت بھی اور ہر خاندان کی حیثیت سے ہر فرد جماعت کو اپنی انفرادی حیثیت سے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ عمومی طور پر جہاں تک بھی ممکن ہے وہ اپنی تحسین کرے یعنی اپنے اندر وہ حسن پیدا کرنے کی کوشش کرے جو خدا تعالیٰ ہم میں دیکھنا چاہتا ہے اور خصوصی طور پر اپنی ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرے جو بعض افراد کے ساتھ خصوصیت سے چمٹ جایا کرتی ہیں۔ عمومی تحسین کا پروگرام تو جاری رہتا ہے لیکن اس کے باوجود انسان کے اندر بعض بیماریاں بعض گناہ بعض کمزوریاں ناسور بن جایا کرتی ہیں اور باقی جسم صحت مند بھی ہو تو ناسور ہمیشہ دکھ دینے کا موجب بنے رہتے ہیں اور ضروری نہیں ہوا کرتا کہ انسان جو کسی ناسور میں مبتلا ہو اس کا سارا بدن ہی بیمار ہو۔اس لئے بسا اوقات بعض لوگوں کے ناسور چھپے رہتے ہیں۔ بیرونی نظر سے تو چھپے رہتے ہیں لیکن اندرونی نظر سے وہ نہیں چھپ سکتے اس لئے میں نے عمومی کے مقابلے میں خصوصی طور پر جو بات پیش نظر رکھی ہے وہ یہ کہ ہر فرد اپنی ان کمزوریوں کو نمایاں طور پر اپنی نظر میں اپنے فوکس میں لے کر آئے اور ان کو دور کرنے کے لئے حتی المقدور پوری کوشش کرے۔ تحسین میں عمل کا جو عمومی پروگرام ہے وہ میں نے مختلف وقتوں میں بیان کیا ہے چونکہ یہ اس سال کا آغاز ہے جو ہمارے اظہار تشکر کے سال سے پہلے کا آخری سال ہے اس لئے میرا خیال