خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 263
خطبات طاہر جلدے 263 خطبه جمعه ۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء لئے مجھے بڑا اطمینان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو مبشر وعدہ فرمایا تھا اسے اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھنے کی ان کو توفیق عطا فرمائی۔ ۱۹۲۷ء میں حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کے ذریعے آپ کو توفیق ملی تھی احمدیت کے قبول کرنے کی ۔ ۱۹۲۸ء میں آپ کو امیر مقرر کیا گیا ۔ یہ مارچ ۱۹۲۸ء میں امیر مقرر ہوئے تھے۔ گویا میری سار ا میری ساری عمر سے ان کی امارت کی عمر چند مہینے یا نو مہینے قریباً زیادہ تھی۔ حضرت مصلح موعود نے ان کے متعلق بہت ہی اچھے خیالات کا اظہار فرمایا، بہت ہی اچھی رائے ظاہر فرمائی۔ ایک موقع پر فرمایا کہ منیر الحصنی صاحب کے ذریعے خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت شام اخلاص میں ترقی کر رہی ہے اور دنیا کی احمدی جماعتوں میں بلند مقام رکھتی ہے۔ دوسرا جنازہ غائب مکرم میجر جنرل بشیر احمد صاحب راولپنڈی کا پڑھا جائے گا۔ یہ بھی اپنے آخری ایام میں خصوصیت سے جماعت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے اور اپنے گھر کو خدمت دین کے لئے پیش کرتے تھے اور مجھے بھی کئی دفعہ راولپنڈی جانے کا اتفاق ہوا ان کے گھر میں ہی مجالس لگا کرتی تھیں سوال و جواب کی چونکہ ان کا اور ان کی اہلیہ کا رسوخ کافی تھا۔ یہ اپنے دوستوں ، تعلق والوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور بڑی محبت سے جماعت کی خدمت کیا کرتے تھے۔ مکرم پروفیسر محمد دین صاحب کو ربوہ کے سب لوگ جانتے ہیں باہر کے بھی بہت سے کیونکہ تعلیم الاسلام کالج میں ایک لمبا عرصہ تک پروفیسر رہے۔ اس سے پہلے تعلیم الاسلام ہائی سکول میں بھی استاد تھے۔ چوہدری علی محمد صاحب، یہ دا و داحمد صاحب نگران تعمیرات صدرانجمن احمد یہ کے والد تھے۔ دوجے عبداللہ صاحب جماعت انڈونیشا تاسک ملایا کے پریزیڈنٹ تھے۔ یہ بھی بہت مخلص اور فدائی اور مشکل حالات میں بڑی وفا کے ساتھ جماعت احمدیہ کی خدمت کرتے رہے۔ مکرم فتح محمد صاحب گجراتی ابتدائی درویشان قادیان میں سے تھے۔ مکرمہ تقیہ اقبال صاحبه، محمد صفی صاحب قائد انگلستان کی پھو پھی تھی۔ رمہ مقصودہ اختر صاحبہ۔ یہ موصیہ بھی تھیں ۔ قریشی نور الحسن صاحب کی بیوہ تھیں ۔ مکرمہ دانی بیگم صاحبہ محمد اسلم صاحب بھروانہ قائد ضلع راولپنڈی کی والدہ تھیں ۔ مکرمه مختار بیگم صاحب بدر عالم اعوان صاحب کی اہلیہ ، مکر مہ فضیلت نصائح صاحبہ ۔ یہ منیر