خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 254
خطبات طاہر جلدے 254 خطبه جمعه ۱۵ را پریل ۱۹۸۸ء کرنے ہیں اور چونکہ دیگر تمام دلچسپیاں کٹ جاتی ہیں اس لئے پڑھائی کے لئے بھی زیادہ وقت مل جاتا ہے اور پھر اگر وقت کم بھی ملے تو دعاؤں کے ذریعے نمازوں کے ذریعے، رمضان شریف میں تو طلباء برکت لے کے باہر نکلتے ہیں۔ ان کو علمی نقصان کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ انہی کو علمی نقصان ہو سکتا ہے جو روزہ چھوڑ دیں رمضان کا اس خیال سے کہ ان کو نقصان نہ ہو۔ ایسے لوگوں کے علم میں برکت نہیں پڑسکتی اور اگر ظاہری طور پر وہ حاصل کر بھی لیں کچھ علمی فائدہ تو بیکار اور بے معنی ہے۔ بہت بڑا فائدہ کھو کر انہوں نے بہت معمولی فائدہ لیا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے فرمایا اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کاش! کہ تمہیں پتا ہوتا کہ کیا کھورہے ہو۔ اگر تمہیں علم ہوتا تو تم کبھی بھی اس فائدے سے محروم نہ رہتے ۔ اس لئے تمام دنیا میں جماعتوں کو خصوصیت سے رمضان میں تفصیلی نظر ڈالنے کا انتظام کرنا چاہئے ۔ جن بچوں کے ماں باپ کو یہ سعادت حاصل نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تلقین کریں وہاں خدام الاحمدیہ کے ذریعے تلقین کی جائے ، لجنہ کے ذریعے تلقین کی جائے ، انصار کے ذریعے کوشش کی جائے۔ جماعت کوئی بھی نظام مقرر کرے مگر براہ راست ہر احمدی کو یہ پیغام ملنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس مہینہ میں تم پر روزے فرض کر دیئے ہیں۔ اب بتاؤ تم مریض ہو یا مسافر ہوا گر دونوں میں سے کچھ نہیں تو پھر سوائے روزے کے اور کوئی راہ نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ خدا تم پر تکلیف نہیں ڈالنا چاہتا۔ خدا تمہارے لئے آسانی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس ٹکڑے کو معا بعد رکھا گیا ہے اس آیت کے حصے کے فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ اُخَرَ ایسے لوگ جو مریض ہوں یا مسافر ہوں ان کو بعد کے ایام میں روزہ رکھنے کی اجازت ہے۔ اس سے پتا چلا کہ اللہ تعالیٰ جہاں تک سہولت دینا چاہتا ہے ہمارا فائدے میں ہے وہ ساری دے دی ہے اور اس کے باوجود مسافر اور مریض کے علاوہ کسی کو روزہ چھوڑنے کی گنجائش نہیں۔ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْر یا درکھو خدا تمہارے لئے تکلیف نہیں پیدا کرنا چاہتا آسانی چاہتا ہے اور اس آسانی چاہنے کے پیش نظر اس نے مریض کو اور مسافر کو اجازت دی ہے۔ یعنی جو مریض اور مسافر نہیں ہیں باوجود اس کے کہ اللہ تمہارے لئے تکلیف نہیں چاہتا پھر بھی تمہیں مکلف فرما رہا ہے کہ تم نے روزہ ضرور رکھنا ہے اور اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ روزے ہی میں