خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 235

خطبات طاہر جلدے 235 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۸ء ہوئے ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی ساری توجہ تخریب کی طرف ہو گئی ہے۔ اب آپ نے باہر جو چند آدمی دیکھے ہیں ، ان کے حلیہ بھی آپ نے دیکھا ہے۔ کسی شکل وصورت کس قماش کے لوگ تھے اور وہ کھڑے سوائے اس کے کہ گندے نعرے لگائیں جماعت کے خلاف، کوئی کام نہیں۔ جمعہ بھی اپنا چھوڑ کر بیچارے آئے ہوئے ہیں۔ مصیبت میں باہر کھڑے اور یہی ان کی خدمت دین ہے اور اس کے مقابل پر میں دیکھ رہا تھا جماعت کے سارے احمدی دوست جو آتے رہے ہیں بڑے وقار کے ساتھ ایک ذرہ بھی انہوں نے کسی قسم کی کوئی لغزش نہیں تھی ان کے اندر، کوئی غصہ کا رد عمل نہیں تھا اور لاحول پڑھتے ہوں گے دل میں مگر اونچی آواز سے نہیں اور اسی طرح لاحول پڑھتے اور استغفار کرتے ہوئے بڑے باوقار قدموں سے مسجد میں داخل ہو رہے تھے ، ایک ذرہ بھی پرواہ نہیں کہ باہر یہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ ہے فرق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا ایک نشان ہے۔ اس نشان کو ہمیں ہمیشہ زندہ رکھنا پڑے گا ۔ دن بدن وہ لوگ جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکر ہیں وہ تخریب کاری کی طرف مائل ہوتے چلے جا رہے ہیں اور بعض جگہ اتنا میلان یہ بڑھ گیا ہے کہ اسلام کو تخریب کاری کا نشان قرار دیا جا رہا ہے دنیا میں ۔ اتنی بد بختی اور بدنصیبی ہے کہ وہ دین جن کا نام تھا امن دینا اور ساری دنیا کے امن کی خاطر خدا نے قائم فرمایا تھا اس دین کو آج تخریب کاری کا نشان بنایا جا رہا ہے اور یہ سزا ہے اس ایمان کے انکار کی جس کو خدا نے خود مقرر فرمایا تھا۔ ایمان کی حیثیت سر کی ہوا کرتی ہے۔ اگر سر کٹ جائے یا سر سے جسم علیحدہ ہو جائے اور اسے قبول نہ کرے تو کچھ دیر جان رہتی ہے، جسم پھڑکتا بھی ہے لیکن اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور اگر وہ اعصابی رستے کسی طرح خراب ہو جائیں جن کے ذریعے سر جسم پر حکومت کرتا ہے اس کی نگرانی کرتا ہے اور پیغام پہنچنے بند ہو جا ئیں تو پھر زندہ بھی بڑی دیر تک رہتا ہے لیکن اس کی اپنی حرکتیں بالکل پاگلوں والی اور بے معنی ہو جاتیں ہیں اور اس کے اندر کوئی نظم وضبط دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے ہی اوقات میں جب خدا تعالیٰ نے کسی مذہب کو زندہ رکھنا ہو تو نئے سر عطا کیا کرتا ہے اور اسی کا نام الہی امامت ہے۔ جو سر سے قطع تعلق کر قطع تعلق کر لے یا جس تک پیغام پہنچنے کے ذریعے مسدود ہو جائیں اور جس طرح کہ یہ لوگ آج کل کر رہے ہیں یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعے مسدود کئے جاتے ہیں کہ شور مچاتے ہیں کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کا پیغام دوسروں تک نہ پہنچے اور اس کے ذریعے سے جسم کو محروم کرنے کے