خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 209
خطبات طاہر جلدے بچنے کا پھر کیا سوال ہے۔ 209 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء پس جماعت احمد یہ کو باشعور جماعت کے طور پر ان بدیوں کے خلاف جہاد کرنا چاہئے اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دینے سے پہلے اپنے گھروں کو با اخلاق بنانا چاہئے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی بد خلقی کو برداشت نہ کریں ۔ جس طرح قرآن کریم نے تعلیم دی ہے محبت اور دردمندی سے نصیحت کر کے ہر قسم کی بد خلقی کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔ آپس کی گفتگو میں ملائمت اختیار کریں ، تلطف اختیار کریں ، ایک دوسرے کی کمزوریوں کو معاف کرنا سیکھیں اور جہاں تک خدا اجازت نہیں دیتا وہاں معاف کرنے کا آپ کو حق نہیں لیکن جہاں اجازت دیتا ہے وہاں حتی المقدور معافی کا معاملہ کریں، معافی کا سلوک کریں جس سے انشاء اللہ تعالیٰ معاشرہ حسین سے حسین تر ہوتا چلا جائے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غلطیاں کھائی ہیں اور جادۂ مستقیم سے بہک گئے ہیں ۔ قرآن شریف میں لکھا ہے۔ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء: ۲۰) مگر اب اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔“ آپ اندازہ کریں کہ اگر آج سے سو سال پہلے اس کے خلاف عمل ہو رہا تھا تو اس وقت کیا ہو رہا ہوگا دو دوقسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیج الرسن کر دیا ہے دین کا کوئی اثر ہی ان پر نہیں ہوتا اور وہ کھلے طور پر اسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی ان سے نہیں پوچھتا ۔“ ** یہ خوش خلقی نہیں ہے یہ خودکشی ہے کہ اپنے گھروں میں جہاں خدا نے آپ کو قیم بنایا ہے وہاں بدیوں کو پنپنے دیں اور پرواہ نہ کریں اور پوچھیں ہی نہ کہ میں با اخلاق ہوں میں اپنی عورت سے نرمی کر رہا ہوں۔ وہ جس قسم کی بے حیائیاں کرے ، جس قسم کی گندگی کرے، نماز سے غافل ہو، نماز سے بچوں کو غافل رکھے۔ شریعت کی حرمتوں کا خیال نہ رکھے کہ میں نرمی کر رہا ہوں اس لئے میں اس کو کچھ نہیں کہتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ اسلام نہیں بلکہ یہ جہالت ہے۔ یہ