خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 205
خطبات طاہر جلدے 205 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء کے کمال تک پہنچنے والا وجود تھا بلکہ آپ کی صداقت کی بھی گواہی دی اور اس کے علاوہ عورتوں کے لئے ایک عظیم الشان نہ صرف نمونہ قائم فرمایا بلکہ عورتوں کا سر ہمیشہ کے لئے بلند کر دیا۔ یہ بتایا کہ عورتیں صاحب حوصلہ ہوا کرتی ہیں ۔ عورتیں چھوٹے دل کی نہیں ہوتیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ عورتیں تم سے حسن سلوک کریں تو تم ان سے حسن سلوک کرو۔ اگر عورتوں کو یہ یقین ہو جائے کہ ہمارا مر دسچا ہے اور لوص ہے اور پاک دل رکھتا ہے اور ہماری طرف سے سوائے ہمارے وجود کو اس کو کو نہیں ہے تو ایسی عورتیں پھر کبھی غیریت نہیں رکھا کرتیں اور حضرت خدیجہ نے ہمیشہ کے لئے عورتوں کو ایک ایسا خراج تحسین پیش کیا ہے کہ اس کی مثال آپ کو دنیا میں اور کہیں دکھائی نہیں دے گی۔ اصلى علي پس اس نمونے کو آپ پکڑیں۔ جتنا آپ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق کے قریب ہوں گے اتنا ہی زیادہ اپنے گھروں پر اپنی بیویوں پر آپ کا نیک اثر پڑتا چلا جائے گا یہاں تک کہ پھر جہاں دونوں طرف سے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہو وہاں یہ غیریت مٹ جایا کرتی ہے یہ سوال ہی نہیں رہا کرتا کہ کون سا مال کس کا ہے۔ وہ دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے کا مال ہے اور یہی ہے وہ طریق جس سے گھر میں جنت پیدا ہوتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی شکایتیں ملتی ہیں جو بعض دفعہ تحقیق کرو تو وہ شکایتیں مبالغہ آمیز بھی ہوتی ہیں لیکن بعض دفعہ بچی بھی نظر آتی ہیں اور بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یہ کیسا مرد ہے کیسا انسان ہے جو بجائے اس کے کہ اپنی بیوی پر خرچ کرے اس کے مال پر اس کی نگاہ ہے اور یہ جو بدنیتیں ہیں ان کا آغاز شادی سے بہت پہلے سے شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہمارے معاشرے میں یعنی ہمارے معاشرے سے مراد ہمارا معاشرہ تو عالمی اسلامی معاشرہ ہے میری مراد یہ ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں اکثر مشرقی ملکوں میں بد قسمتی سے یہ برائیاں بہت زیادہ جڑ پکڑ چکی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں ۔ چنانچہ اکثر اگر چہ احمدی اللہ کے فضل سے اس بات سے پاک ہیں لیکن اس کے باوجود ایسی شکایتیں آتی ہی رہتی ہیں کہ ایک عورت اب کسی لڑکی کو دیکھنے گئی کہ میں اپنے لڑکے کے لئے ایک خوبصورت سی بہولا نا چاہتی ہوں نیک سیرت ، نیک فطرت ہو، ساری خوبیاں ہوں ۔ دیکھا اور خوشنودی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہاں ہمیں کہا منظور ہے اب یہ بتاؤ کہ اس کے ساتھ موٹر آئے گی تو کونسی آئے گی ۔ گھر دو گے یا نہیں دو گے۔ کونسی جائیداد اس کے نام لکھو گے اور کیا کیا مزید جہیز اس کے ساتھ آنے والا ہے۔ اس کے لئے اگر تم نے