خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 178
خطبات طاہر جلدے 178 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۸۸ء سے ہٹے ہیں اور قوم کے کردار کے کسی حصے میں بھی اسلام اب دکھائی نہیں دیتا۔ اس لئے ان کو احمدیوں کی دشمنی میں یا احمد یوں پر حملہ کرنے میں دلچسپی کا فقدان نہیں ہے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ معصوم ہیں۔ عوام الناس کثرت سے اس پرو پیگنڈے کے نتیجے میں آپ کو شاید واقعہ و شاید واقعہ وہی گندا وجود سمجھتے ہیں جس طرح آپ کے وجود کی تصویر کھینچی۔ یر چی جا رہی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ مولوی کی بات بالکل نہیں مان رہے بلکہ گندا سمجھنے کے باوجود ان کو دلچسپی کوئی نہیں ہے۔ کوئی ان میں یہ نہیں کہتا کہتا کہ کہ مولوی ؟ جھوٹا ہے۔ وہ جھوٹا احمدیوں کو ہی سمجھتے ہیں کیونکہ اس کثرت سے پروپیگنڈا ہے اخباروں میں، کتب کے ذریعے، اشتہارات کے ذریعے دیواروں پر لکھا گیا ہے کہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ عوام الناس اتنا شعور رکھتے ہیں کہ وہ سمجھیں کہ یہ سب جھوٹ اور بکواس ہے۔ پرو پیگنڈا اپنی ذات میں ایک بہت بڑا قوی ہتھیار ہے اور جو کثرت سے جھوٹ بولا جاتا ہے تو وہ یقیناً اثرات پیدا کرتا ہے۔ اس لئے یہ صحت کی علامت نہیں ہے بلکہ ایک اور بیماری کی نشاندہی کرتی ہے بات کہ وہ کیوں ان باتوں کو ماننے کے باوجود جماعت احمدیہ سے بالعموم وہ بد سلوکی نہیں کر رہے جس کی مولوی توقع رکھتے ہیں۔ بعض قصبات میں تو دن رات جلسے ہو رہے ہیں، بے انتہا گندا چھالا جا رہا ہے اور عوام الناس ویسے احمدی کو دیکھتے ہیں تو ان کی نگاہوں سے پتا چلتا ہے کہ نفرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن جس قسم کے عام فسادات مولوی پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ فسادات نہیں ہور ہے۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ ساری قوم کو اس بد بخت دور نے جھوٹا بنا دیا ہے اور ساری قوم کو مجرم بنا دیا ہے۔ چنانچہ کثرت کے ساتھ یہ اطلاعیں مل رہی ہیں کہ آج سے دس سال پہلے جو نماز کا معیار تھا آج اس کا دسواں حصہ بھی باقی نہیں رہا۔ جو شروع شروع میں نماز ز بر دستی پڑھائی جانے لگی تھی یا حکم جاری ہوئے تھے اور اس کے لئے با قاعدہ رخصتیں بھی دی گئی تھیں اب ان باتوں کا تذکرہ بھی مذاق میں کیا جاتا ہے اور جو پہلے چند نمازی پیدا ہوئے تھے ان احکام کے نتیجے میں وہ اپنے ساتھ بہت سے دوسروں کو بھی ساتھ لے گئے ہیں اور کثرت سے اب بے نمازی پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ شراب کے خلاف مہم تھی محرمات کے خلاف مہم تھی کہ اسلام آ گیا ہے اب شراب یہاں اس ملک میں داخل نہیں ہوگی ۔ اس کثرت سے سنا ہے اب شہروں میں شراب پی جاتی ہے کہ نو جوان عورتیں، مرد ہر قسم کے، ہر طبقے کے لوگ بکثرت شراب پیتے ہیں۔ ایک پاکستان سے آنے والے دوست نے بتایا کہ ہم نے ایک ملازم رکھا اس سے پوچھا کہ کتنی تنخواہ لو گے؟ اس نے کہا مجھے تنخواہ کی ضرورت نہیں ہے مجھے اتنی بوتلیں مہینے کی دے دیا کریں۔ کہتے ہیں ہم حیران ہو کر اس کا منہ دیکھ رہے تھے یہ کیا کہہ رہا ہے اور وہ سنجیدہ تھا اپنی بات میں ۔ اس کو انہوں نے یہی جواب دیا کہ اگر بوتلیں لینی ہیں