خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 148
خطبات طاہر جلدے 148 خطبه جمعه ۴ ۱ مارچ ۱۹۸۸ء جائیں گے آپ سمجھتے ہیں صرف پاکستانی کا ہی کام ہے کہ وہ قربانیاں دے۔ بالکل غلط ہے ۔ نہ ہندوستانی کا کام نہ پاکستانی کا کام ہے ساری دنیا کا کام ہے اور افریقہ میں یہ نمونے بڑی شان کے ساتھ ظاہر ہو چکے ہیں اور ابھی بھی ہو رہے ہیں۔ میں تو ان لوگوں میں پھر کر حیران رہ گیا ہوں دیکھ کر کہ اتنی عظیم الشان قوم ہے۔ بہت سی ایسی خوبیاں ان کو خدا نے عطا کی ہیں جس سے باہر کی دنیا محروم ہے۔ پاکستان میں بھی وہ نہیں، ہندوستان میں بھی نہیں ، امریکہ میں بھی نہیں ، چین جاپان میں بھی نہیں وہ صرف آپ کو افریقہ میں دکھائی دیں گی۔ اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کے خدا تعالیٰ کی تقدیر یہ ہے کہ وہ آواز جو قادیان سے بلند ہوئی تھی جسے پہلا پلیٹ فارم ہندوستان کا مہیا کیا گیا تھا اس پر لبیک کہتے ہوئے جو قربانیاں اس خطے کے بسنے والوں نے دیں ان کی قبولیت کے پھل کے طور پر افریقہ عطا ہوگا اور افریقہ خود وہ پھل بن جائے گا جس سے کثرت کے ساتھ وہ بیج پیدا ہوں گے جو ساری دنیا میں وہ ثمر دار درخت لگا دیں گے جسے ہم باغ احمد کہہ سکتے ہیں ۔ جس کی شاخیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھیں کہ کل عالم پر محیط ہیں اور بنی نوع انسان اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تو یہ دو دور ہیں احمدیت کی ترقی کے۔ پہلا افریقہ کے دلوں کی فتح ہے اور دوسرا اس کے ذریعے سے سب دنیا کے دلوں کی فتح ہے۔ جو میں نے دیکھا ہے مجھے تو یہی دکھائی دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی اس بات پہ گواہی دیں گی کہ جو میں نے دیکھا وہ سچ دیکھا تھا۔ پس خدا تعالیٰ کی تقدیر میں جو پھل ملا کرتے ہیں وہ صرف کھانے کے لئے نہیں ہوا کرتے صلى الله ہر پھل کے ساتھ بیج بھی رکھے جاتے ہیں۔ یہ مضمون ہے جسے ہمیں کبھی بھلا نا نہیں چاہئے ۔ جو پھل آج جماعت افریقہ میں کھا رہی ہے ان پھلوں کے اندر پیچ مضمر ہیں اور وہ اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ اگر ہم ان کی نگہداشت کریں اور ان کو لگا کر ان کی آبیاری کریں تو پھر ساری دنیا تک آنحضرت ﷺ کی برکتوں کے پھل پہنچانے کے لئے سامان مہیا ہو جائیں گے اور بہت بڑی وہاں جس کو پنیری کہتے ہیں پتا نہیں اردو میں اس کا کیا نام ہے انگریزی میں Nursery کہتے ہیں افریقہ میں وہ پنیری لگانے یا نرسری بنانے کے لئے بہت بڑی سرزمین موجود ہے اور بیج میسر آچکے ہیں کیونکہ وہ پھل میں نے خود دیکھا ہے جو بیجوں سے لدا ہوا ہے۔