خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 137

خطبات طاہر جلدے 137 خطبه جمعه ۱/۴ مارچ ۱۹۸۸ء صاحب، عطاء اللہ صاحب کلیم، محمد صدیق صاحب گورداسپوری محمد افضل صاحب قریشی ، ملک غلام نبی صاحب وغیرہ وغیرہ۔ یہ بہت سے آئے اور سب کی تو یاد بھی میرے ذہن میں پوری طرح حاضر نہیں ۔ مگر نمونہ سرسری طور پر کہیں کسی کا نام ذہن میں اُبھرتا رہا کہیں کسی کا نام ذہن میں اُبھرتا رہا، کہیں یاد کروانے والوں نے یاد کروایا لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ بھی ایک قسم کا وسیلہ تھے یادوں کی راہ میں منازل تھیں اور آخری سفر پھر ان عظیم بزرگوں کی طرف تھا جو آغاز میں افریقہ میں خدمت کرنے کے لیے پہنچے تھے۔ اُن میں سے چند کا بالکل مختصر تذکرہ میں کرنا چاہتا ہوں تا کہ ساری جماعت اُن کے لیے دعائیں بھی کرے اور یہ عہد کرے کہ ان کی قربانیوں کا جو پھل ہم آج کھا رہے ہیں اُس کا بدلہ ہم مستقبل کی نسلوں کو آج کی قربانیوں سے دیں گے۔ جس طرح پھل دار درخت لگانے والے بسا اوقات اپنے پھل دار لگائے ہوئے درخت سے محروم رہ جاتے ہیں اُس کے پھل سے لیکن آئندہ نسلیں ان درختوں کا پھل کھاتی ہیں اور انہوں نے پہلی نسلوں کے لگائے ہوئے درختوں کا پھل کھایا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک جاری سلسلہ ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے کائنات میں ایک طرف سے احسان بھی ہوتا دوسری طرف اس احسان کو ادا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جیسا کو کہ میں نے بیان کیا ہے دعاؤں کے ذریعے بھی ہم ان بزرگوں کو ہمیشہ اپنی طرف سے رحمتوں اور کے تھے پر بےشمار برکتوں کے تحفے بھیج سکتے ہیں یعنی خدا کے حضور گریہ وزاری کر سکتے ہیں کہ ان پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے ، ان کی اولادوں پر برکتیں نازل فرمائے ، ان کی نیکیوں کو جاری رکھے اور ان جیسے اور کثرت سے لوگ بلکہ ان سے بھی بڑھ کر قربانی کرنے والے عطا کرے۔ تو جو پہلی نسل کے لوگ تھے جن کی طرف بار بار ذہن منتقل ہوتا رہا ان میں سب سے پہلے بزرگ حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر ہیں ۔ انہوں نے ۱۹۰۱ء میں بیعت کی تھی ۔ ۵ ار جولائی ۱۹۱۹ء کو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کے ساتھ یہ پہلے انگلستان تشریف اور کچھ عرصہ یہاں قیام کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر آپ افریقہ کے لئے روانہ ہوئے ۔ ۹ار فروری ۱۹۲۱ء کو فری ٹاؤن سیرالیون میں پہنچے اور یہ وہ پہلی جگہ ہے جہاں افریقہ میں احمدیت کے کسی مبلغ نے قدم رکھے ہوں۔ لائے سیرالیون میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے پہلے ایک دوست ۱۹۱۵ء میں خط و کتابت