خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 7 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 7

خطبات طاہر جلدے 7 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء صلى الله اس بات کو تسلیم نہیں کرتا، نہ تاریخ اسلام اس بات پر کوئی گواہی دیتی ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک عادتاً مسلمان حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے صحابہ اور آپ کے تربیت یافتہ مسلمان آپ کو چھوڑ کر کھیل تماشے کی طرف دوڑ جاتے ہوں اور جمعہ ۔ جمعہ کے دن آپ کو اکیلا آپ کو اکیلا چھوڑ جاتے ہوں۔ جو احادیث میں روایات ملتی ہیں ان سے تو صلى الله عروسه ۔ صاف پتا چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ایک اشارے پر ، آپ کی ایک دعوت پر جوق در جوق رے آیا کرتے تھے یہاں تک کہ نہایت ہی خطرناک وقتوں لوگ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر آپ کی طرف دوڑے آ صلى الله میں بھی انہوں نے اپنی اطاعت کی روح کو زندہ رکھا اور اپنے جسموں کے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ چنانچہ جنگ حنین کے وقت یہ نظارہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقع پر جبکہ لشکر اسلام کے پاؤں اکھڑ گئے اور آنحضرت کے ارد گرد سوائے چند گنتی کے صحابہ کے اور کوئی میدان میں کھڑا نہ رہ سکا۔ اس وقت مختلف صحابہ نے آوازیں دے کر مسلمانوں کو بلانا شروع کیا لیکن وقت ایسا تھا ، ایساز در کار یلا پڑا تھا کہ نا کیالیکن تھا، درکار اکھڑے ہوئے پاؤں جمتے نہیں تھے اور دوڑتے ہوئے سپاہی واپس نہیں آسکتے تھے ۔ اس وقت حضرت ا اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اپنے ساتھ کھڑے ہوئے غلاموں کو یہ تاکید فرمائی کہ ان کو یہ کہو کہ خدا کا رسول علی تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے اور یہ اعلان کرتے چلے جاؤ کہ خدا کا رسول تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔ صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے کانوں میں یہ آواز پڑی تو کوئی اور ہوش نہیں رہا سوائے اس کے کہ ہر قیمت پر ہم نے واپس جانا ہے۔ چنانچہ بعض صحابہ روایت کرتے ہیں کہ ہماری وہ سواریاں جو ا تنا منہ زور ہو چکی تھیں ، ایسی بھگدڑ پڑی ہوئی تھی کہ سواریوں کو بھی ہوش نہیں رہی تھی۔ ہم نے اپنی تلواریں نکال کر ان کی گردنیں کاٹ صلى الله اصلى الله عروسه دیں اور پیدل دوڑتے : تے ہوئے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی طرف دوڑ پڑے۔ یہ نظارہ ہو جس جماعت کی قربانی کا اور اطاعت کا ۔ اس کے متعلق یہ تصور کر لینا کہ جمعہ کے دن کھیل تماشے کی خاطر یا تجارت کی خاطر کا۔ صلى الله آنحضور ﷺ کو اکیلا چھوڑ کر اس طرف دوڑ جاتے ہوں میری سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے، میرے دل میں جمتی نہیں یہ بات۔ قرآن کریم کی ایک اور آیت بھی اس ترجمہ کی تصدیق فرماتی ہے جیسا کہ فرمایا وَقَالَ الرَّسُوْلُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۳۱) کہ رسول نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کریم کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا ہے صلى الله علی پس جو قرآن کو چھوڑے گا وہ محمد مصطفی ﷺ کو بھی چھوڑے گا اور قرآن کریم سے پتا پتا چلتا ہے کہ واضح طور پر وہ وہ