خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 99

خطبات طاہر جلدے 99 خطبه جمعه ۱۹ فروری ۱۹۸۸ء کریں۔ اگر آپ ان پر بلند آواز سے آوازیں کسیں ، اگر آ، پ اخبارات میں ان کے بارہ میں مضامین یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہ ان سب کو نائیجیریا سے نکال دیا جائے تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ شاید خ یہ یه حقیقی لکھیں حب الوطنی ہے۔ یہ غلط بات ہے۔ اس نفرت کا حب الوطنی یا کسی اچھائی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بد قسمتی سے یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کو نائیجیریا سے باہر غیر ممالک میں بھجوا رہے ہیں۔ وہ سمگلنگ میں ملوث ہیں ، وہ خورد برد میں ملوث ہیں اور نہیں محسوس کرتے کہ یہ حب الوطنی نہیں ہے۔ اگر وہ سچے محب وطن ہوتے تو وہ کچھ مثبت کام نائیجیریا کی خدمت میں کرتے ۔ یہ تو محض احمقانہ پن ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ بدعنوانی اور حب الوطنی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ یا د رکھیں مالی خورد برد اور حب الوطنی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں، یاد رکھیں سمگلنگ اور حب الوطنی ایک ساتھ نہیں چل سکتی ، یا درکھیں عوامی دولت کا استعمال اور حب الوطنی اکٹھی نہیں چل سکتیں ۔ حب الوطنی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے ہم وطنوں اور ملک کیلئے مصروف خدمت ہوں ، ملک کی دولت کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوں نہ کہ ان کی حفاظت کیلئے جو آپ کے ملک کو لوٹتے ہیں۔ پس حب الوطنی کا بگڑا ہوا یہ تصور آپ کو اس قدر شدید نقصان پہنچا رہا ہے کہ آج آپ کو اس قدر نقصان نہ کوئی غیر ملک اور نہ کوئی غیر ملکی طاقت پہنچا سکتی ہے۔ اسے محسوس کریں اور بیدار ہو جائیں اور سمجھیں کہ آپ کے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ سب سے زیادہ تو ایک نائیجیرین ہی اپنے ملک کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ذمہ دار ہے۔ آپ نے اپنے رویوں کی کایا پلٹتے ہوئے تبدیلی لانی ہے۔ اس کیلئے میں خاص طور پر احمد یوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور تمام نائیجیریا کیلئے نمونہ بنیں ۔ انہیں سب سے پہلے خود ایماندار بننا ہوگا۔ انہیں حکومت کی مدد میں سب سے پہلے آگے آنا ہو گا ہر اس کام میں جو نائیجیریا میں معیار زندگی کو بہتر کرنے کیلئے اٹھایا جا رہا ہے۔ انہیں ان لوگوں کی صف میں کھڑا ہونا ہو گا جو نائیجیریا کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں ۔ ان لوگوں میں ہرگز شامل نہیں ہونا جو ملک کو لوٹ رہے ہیں، مالی خورد برد کرتے ہیں اور دولت کو ملک سے باہر بھیجتے ہیں بلکہ انہیں وہ لوگ بننا ہے جو اپنے مال کی قربانی کرتے ہیں۔ ان کی قوت اور طاقت اپنے ملک اور اپنے ہم وطنوں کیلئے ہونی چاہئے ۔ یہ وہ حقیقی حب الوطنی ہے جس کو اللہ پسند کرتا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اللہ