خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 806
خطبات طاہر جلد 1 806 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء محبت اور پیار سے سمجھا کر میرا مطلب ہے سختی سے مراد نہیں ہے۔ اس کو یہ نہیں کہتے کہ تم پہلے اپنے خاوند کے خلاف یک طرفہ باتیں کر رہی تھی ، اب تم خلیفہ وقت کے خلاف یک طرفہ باتیں کر رہی ہو تمہارے خاوند کو تو ہم نہیں جانتی لیکن خلیفہ وقت کے ہاتھ تو ہم نے منصف سمجھ کے بیعت کی ہوئی ہے۔ یہ ایمان رکھتے ہوئے بیعت کی ہے وہ خود منصف نہیں بلکہ انصاف کا محافظ ہے دنیا میں تم ایسے شخص کے اوپر عدل کے خلاف الزام لگا رہی ہو ، اس لئے اگر پہلے سن بھی لیں تھیں جسکے اٹھائے بھی تھے نا جائز ، اب ہم تمہاری مزید باتیں نہیں سنیں گی۔ اس کی بجائے کہتی ہیں ہاں ہاں یہ تو فلاں شخص کی وجہ سے ہے یا فلاں اشخاص کی وجہ سے وہ پرائیویٹ سیکرٹری اس کا دوست ہے، وہ افسر حفاظت اس کا صلى الله دوست ہے، وہ فلاں اس کا دوست ہے اس کی یک طرفہ باتیں سنتا ہے اور مجبور ہو گیا ہے۔ اب امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے دو قسم کے ہو سکتے ہیں یا منافقین یا وہ جو خلیفہ وقت کے اوپر حملہ نہیں کرنا چاہتے اور اپنی طرف سے اس کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں اور بات ایک ہی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اس مضمون کو بھی بیان فرما دیا ہے نہ صرف یہ فرمایا کہ تفاوت نہیں دیکھو گے خدا کی کائنات میں بلکہ روحانی کا ئنات میں جہاں جہاں تفاوت کے احتمالات ہیں ان سب کا ذکر قرآن کریم میں فرمایا ہوا ہے۔ خود حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر بھی ایسے حملے ہوئے آپ کے متعلق باتیں یہ کی گئیں کہ هُوَ اذن کہ وہ تو کان ہیں مجسم یعنی لوگوں کی باتیں سنتا ہے اور مان جاتا ہے اس کے نتیجے میں بعض دوسرے لوگوں کے خلاف فیصلے کر دیتا ہے نعوذ بالله من ذالک یا ان سے متنفر ہو جاتا ہے، ان سے پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ قرآن کریم نے اس کا بہت پیارا جواب دیا ہے فرمایا اذن خَيْرٍ لَكُمْ (التوبہ: (۱۶) کان تو ہے لیکن صرف بھلائی کا کان ہے برائی کا کان نہیں۔ جب بری باتیں کسی سے سنتا ہے تمہارے متعلق تو تم پر حسن ظن رکھتا ہے اور یک طرفہ فیصلے نہیں کرتا جب اچھی باتیں سنتا ہے تو قبول کر لیتا ہے کیونکہ وہ تم سے پیار کرتا ہے، تمہارے اوپر حسن ظن رکھتا ہے۔ اس لئے کان بے شک کہولیکن خیر کا کان کہو، بھلائی کا کان کہو۔ صلى الله علي یہی آنحضرت ﷺ کے اتباع میں آپ کے سب غلاموں کی کوشش ہونی چاہئے اور ہوتی ہے۔ خلفائے وقت کے لئے بھی یہی وہ سنت ہے جس کے اوپر وہ عمل کی پیروی کرتے ہیں۔ اس لئے یہ بھی جواب کسی نہ نہیں دیا کہ اُذُنْ خَيْرٍ لَكُمْ تمہارے لئے بھلائی کا کان تو ہوسکتا ہے ہم برائی