خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 799
خطبات طاہر جلد ۶ 799 خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء میں شہاب ثاقب ان کی پیروی کرتے ہیں اور آسمان کی طرف سے شعلے ان پر نازل کئے جاتے ہیں جوان کو ہلاک کر دیتے ہیں لیکن آسمان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ تو جو چیز اپنے مدار به ن مدار پر قائم ہے وہ کسی دوسری چیز سے ٹکر انہیں سکتی جو اپنے مدار پر قائم ہو۔ جو چیز اپنے مدار پر قائم ہے اس سے اگر کوئی چیز ٹکراتی ہے اور مدار پر قائم رہنے والی چیز اپنے منصب سے نہیں ہٹتی تو قرآن کریم کے فلسفے کے مطابق اس کو کوئی نقصان نہیں ہے اور ٹکرانے والی چیز کو نقصان ہو گا لیکن اگر ایک چیز مدار سے ہٹتی ہے، منصب کو چھوڑ دیتی ہے اور اس کے مقابل پر دوسری چیز بھی اپنے منصب کو چھوڑ دیتی ہے اور مقام سے ہٹ جاتی ہے پھر جو ٹکراؤ ہے اس کا نام قرآنی اصطلاح میں تفاوت ہے اور چونکہ فوت ہونے کا مطلب ہی موت ہے اس لئے جب منصب سے ہٹ گئے تو موت خود بخود واقع ہوئی ۔ گویا دو موتوں کے درمیان تصادم ہے اور جو دو موتیں متصادم ہوں گی تو نتیجہ فتور ہی پیدا ہو گا اس سے زیادہ اور کیا نکل سکتا ہے۔ عجیب حیرت انگیز کلام ہے اس کو بار یک دربار یک نظر سے آپ دیکھیں اور اگر آپ تفاوت تلاش کرنے کی کوشش کریں اور فتور تلاش کرنے کی کوشش کریں تو لازما آپ کی نظر تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی اور قرآن کریم کی کائنات میں بھی آپ کو کوئی تفاوت اور کوئی فتور دکھائی نہیں دے گا۔ اس فلسفے میں جو فلسفہ وجود ہے تمام دنیا کے نظام یا نظاموں کی حفاظت کا راز بیان فرما دیا گیا ہے خواہ معاشرتی نظام ہو، خواہ اقتصادی نظام ہو، خواہ مذہبی نظام ہو، کسی نوع کا سیاسی نظام ہو، کسی نوع کا بھی نظام ہو اس میں اگر منتظمین یہ نگرانی کریں کہ تفاوت نہیں ہونے دیں گے اور اس نظام کے کل پرزے اس بات کے اوپر قائم ہو جائیں کہ ہم اپنے مدار سے کبھی نہیں ہٹیں گے تو پھر کوئی فتور دکھائی نہیں دے گا ورنہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کو دکھائی دیتی ہیں جب بھی مدار سے ہٹا جائے گا اور مد مقابل بھی مدار سے ہٹ جائے گا یعنی اپنے مقرر کردہ راہوں سے ، اپنے مقرر کردہ منصب سے کوئی چیز ہٹ جاتی ہے تو اس کے مقابل پر دوسری چیز کہتی ہے اچھا پھر ہم بھی ہٹتے ہیں۔ اس ٹکراؤ کا نام دوموتوں کی ٹکر ہے اور اس کا نتیجہ فتنہ وفساد ہے، مزید موتوں کا پیدا ہونا ہے۔ نظام جماعت کی حفاظت کے لئے بھی یہ انتہائی ضروری ہے اور ہمارے معاشرے کی حفاظت کے لئے بھی یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کی ان آیات میں بیان فرمودہ بنیادی سبق