خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 752

خطبات طاہر جلده 752 خطبہ جمعہ ۱۳ ر تو میرے ۱۹۸ ء آپ کے متعلق لکھا تو یہ لفظ استعمال کئے کہ اس کی انگلیوں کے ساتھ انقلاب کے تارا لجھے ہوئے تھے ۔ اس نے دور کی نظر سے دیکھا کہ اس شخص میں انقلابی کیفیات ہیں ۔ وہ نہیں جان سکا کہ وہ انقلابی کیفیات یا انقلابی کیفیات کیوں پیدا ہوئیں لیکن قرآن کریم نے اس مضمون کو کھولا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اللہ کے تعلق کے نتیجے میں تمام انقلابی طاقتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ چنانچہ فرمایا کہ یہ وہ جماعت ہے جو تعلق باللہ پر قائم ہو ان میں سے ایسے لوگ پیدا ہوا کرتے ہیں اور ایسے لوگ پیدا ہونے چائیں يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ ۔ وہ بھلائی کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کریں اور يَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوف اور نیک کاموں کی ہدایت کرنی شروع کریں ۔ کسی دلیل کا ذکر نہیں ہے، کسی استدلال کی بات نہیں ہو رہی ، ایک ہی ان کی صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کے سارے تعلق اللہ کی محبت پر قائم ہیں اور معا بعد فرمایا کہ ایسے لوگ اس بات کے اہل ہو گئے ہیں کہ وہ لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور نیک بات کی نصیحت کریں ۔ چنانچہ ان کا محض نصیحت کرنا ہی اپنے اندر ایک غیر معمولی وزن رکھتا ہے۔ اس معاشرے میں جس میں آپ زندگی بسر رہے ہیں اس پہلو سے بھی یہ آیت ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے اور اس آیت کے اتباع کے نتیجے میں آپ ہزار ہا خطرات سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں تو قدم قدم پر صرف مومنوں کے لئے نہیں بلکہ غیر مومنوں کے لئے بھی خطرات ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی خطرات ہیں جن کا یہ معاشرہ ہے اور اتنے زیادہ خطرات ہیں کہ آپ ان کو شمار نہیں کر سکتے ۔ ہر قدم پر روحانی زندگی کے لئے اس ملک میں ایک چیلنج ہے اور آپ نے صرف اپنی زندگی نہیں بچانی بلکہ غیروں کی زندگی بچانی ہے۔ غیروں کو ان خطرات سے محفوظ کرنا ہے۔ دلائل کے ذریعے آپ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ تعلق باللہ کو مضبوط کریں اور اس تعلق باللہ کے نتیجے میں خود ایک ہوں ، خود ایک دوسرے سے محبت پیدا کریں ۔ یا یوں کہنا چاہئے کہ اس تعلق باللہ کے اظہار کے طور پر آپ ایک ہو جائیں اور خود ایک طبعی قانون کے طور پر آپ کے دل ایک دوسرے کے ساتھ باندھے جائیں تب آپ میں وہ عظمت پیدا ہوگی جس کے نتیجے میں آپ کی نصیحتوں میں وہ عظمت پیدا ہو جائے گی، آپ کے کلام میں ایک وزن پیدا ہوگا۔ ایک ایسی قوت ہوگی کہ دوسرا اس کا انکار نہیں کر سکتا۔ غالب نے اس مضمون کو سمجھے بغیر ایک موقع پر کہا کہ:۔ میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبہ دل اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے (دیوان غالب صفحہ: ۲۹۶)