خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 745
خطبات طاہر جلد ۶ 745 خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۷ء پہلے خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی طرف سے جماعت کے سامنے یہ بات کھولی گئی ہے کہ حبل اللہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کی طرف سے پیغام لے کر آتے ہیں اور اول طور پر حبل اللہ سے مراد اللہ کے نبی ہیں اور اللہ کے پیغمبر ہیں۔ وہی وہ رسی ہے جس کو مضبوطی سے اجتماعی طور پر پکڑنے کی ان آیات میں نصیحت فرمائی گئی ہے۔ نبوت کے بعد یہ رسی خلافت کے نام سے موسوم ہوتی ہے اور اسی پہلو سے خلفاء سے خلفاء کے ساتھ مضبوطی سے اپنا تعلق قائم کرنا جماعتی زندگی کے لئے انتہائی ضروری ہے اور اس تعلق میں بیچ میں کوئی اور واسطہ بیان نہیں فرمایا گیا اور اس تعلق میں واقعہ عملی زندگی میں بھی کوئی اور واسطہ ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ خلیفہ وقت اور احمدی مسلمان ان کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جس میں کوئی نظام جماعت اور کوئی نظام جماعت کا نمائندہ حائل نہیں ہوتا اور یہی وہ تعلق ہے جو سب سے پہلے نبی اپنے اور اپنے متبعین کے درمیان قائم فرماتا ہے اور اسی تعلق کو جاری رکھنے کے لئے نظام خلافت ہے۔ یہ ایک روحانی تعلق ہے اگر اس بلا واسطہ تعلق کی نسبت سے آپ اس مضمون کو سمجھیں گے اور اس تعلق کی حفاظت کریں گے تو آپ بہت سے خطرات اور خدشات سے محفوظ رہیں گے۔ بالعموم جماعت میں جو رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جاتی ہیں ان میں خلیفہ وقت کو پہلے سامنے نہیں رکھا جاتا بلکہ خلیفہ وقت کے نمائندوں پر حملہ کیا جاتا ہے۔ خلیفہ وقت کے نمائندوں کو اپنے تخریبی Criticism یا الزامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہمارا خلیفہ وقت سے تو تعلق ہے یہ لوگ جو بیچ میں حائل ہیں انہوں نے صحیح نمائندگی نہیں کی ، یہ لوگ جو بیچ میں حائل ہیں ان کا کردار ایسا نہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے نظام جماعت سے وفا کی جائے۔ چنانچہ اکثر فتنوں کا آغاز اسی طریق پر ہوا ہے۔ قرآن کریم یہ مضمون بیان فرما رہا ہے کہ تمہارا بنیادوں سے تعلق ہے اور جن کا بنیادوں سے تعلق ہو شاخوں کے خراب ہونے سے وہ تعلق ٹوٹ نہیں جایا کرتا۔ اس لئے جڑوں سے اپنا تعلق مضبوط کرو۔ نبوت سب سے پہلے ہے جس کا تعلق نبوت کے ساتھ مضبوط ہے اس کو کوئی خطرہ نہیں ۔ نبوت کے بعد جو خلافت نبوت کی نمائندگی کر رہی ہے اگر کسی کا براہ راست اس خلافت سے تعلق ہے تو اس کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور یہی وہ بنیادی نصیحت ہے جو اس آیت میں فرمائی گئی اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس سے بھی آگے ہماری سوچ کو خدا تعالیٰ کی طرف منتقل فرما دیا گیا جب یہ کہا گیا کہ حبل اللہ کو پکڑو۔