خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 726
خطبات طاہر جلد ۶ 726 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۸۷ء سے حفاظت بخشتا ہے۔ یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم میں جماعت احمد با احمدیہ کے متعلق بیان ہوا اور یہی مضمون ہے جو بار بار میں خطبوں میں یاد کراتا ہوں لیکن یہ جو مثال ہے زمیندار کی اس پر میں نے جتنا غور کیا ہے اتنا ہی میں حیرت میں ڈوب جاتا ہوں کہ اس میں اتنے تفصیلی مضامین بیان ہوئے ہیں کہ ان پر جتنا بھی آدمی غور کرے نئے نئے مضامین اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں ۔ نئی نئی تبلیغ کی راہیں اس پر روشن ہوتی ہاتی ہیں اور پھر جو تجربہ مجھے ہو رہا ہے اس تجربے کی رُو سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایت حیرت انگیز مضامین کا خزانہ اپنے اندر رکھتی ہے۔ کھیتیوں کے متعلق اکثر زمیندار جانتے ہیں کہ جب وہ زمین کے اوپر محنت کرتے ہیں بیج ڈالتے ہیں ہل چلاتے ہیں پانی دیتے ہیں تو سب زمینیں ایک طرح رد عمل نہیں دکھاتیں ۔ بعض زمینیں اس محنت کو قبول کرتی ہیں اور جلدی پھل اگاتی ہیں۔ بعض زمینیں اس محنت کو قبول نہیں کرتیں پھر بعض کھیتوں کے بعض حصے محنت کو زیادہ قبول کرتے ہیں اور بعض دوسرے حصے قبول نہیں کرتے۔ تو ایک پہلو سے یہ مثال ساری جماعت پر اطلاق پاتی ہے اور ایک پہلو سے یہ ہر اس شخص ہے جو دوسروں کو اس کھیتی لگانے کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔ اس نسبت سے جماعت کھیتی بن جائے گی اور خلیفہ وقت وہ زمیندار ہو گا جو کھیتی لگانے کی کوشش کر رہا ہے اس کی نصیحتیں جو جماعت کو کی جاتی ہیں وہ بیج بن جائے گا اور جماعت جو ردعمل دکھاتی ہے وہ زمین کا رد عمل ہے جو بیج اور محنت کے نتیجے میں زمین دکھایا کرتی ہے۔ تو اس مثال کو الٹا ئیں پلٹا ئیں مختلف زاویوں سے دیکھیں تو کئی قسم کے نئے نئے نظارے سامنے آتے ہیں لیکن یہ مرکزی بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس مثال میں ہم سب کے لئے بہت سے سبق ہیں۔ تبلیغ کے بے شمار مضامین اس چھوٹی سی آیت میں بیان ہو گئے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تبلیغ کا کام لینے والوں میں خلیفہ وقت کے بعد تمام امرائے جماعت ہیں، تمام مربیان سلسلہ ہیں اس پہلو سے الزراع وہ بن جائیں گے اور جماعت وہ کھیتی ہوگی جس کو وہ نصیحت کرتے ہیں جس سے چاہتے ہیں کہ وہ مضبوط ہو اور جلد جلد بڑھے اور توانا ہو جائے اور اپنی مرکزی ڈنڈی پر اس طرح اپنی ذات میں قائم ہو جائے کہ دشمن کی دشمنیوں سے بے نیاز ہو جائے اس پہلو سے یہ مثال خلیفہ وقت پر بھی صادق آتی اور اس کے ساتھ کام کرنے والے منتظمین