خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد 1 713 خطبه جمعه ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء یعنی پہلے کم ہوتے ہوئے دو ہزار کے قریب تعداد رہ گئی تھی اب پھر بڑھتے بڑھتے تین ہزار سے اوپر ہو رہی ہے اور جو مشکل ہے وہ صرف لا علمی کی مشکل ہے ورنہ جہاں تک جماعت کے اخلاص کا تعلق ہے اگر ان کو پتا چلے کہ کون سے ان کے بزرگ دفتر اول میں شامل تھے جن کی یاد کو زندہ رکھنا جن کی گران ۔ نیکی کو زندہ رکھنا ان کی ذمہ داری ہے تو میں وہم بھی نہیں کر سکتا کہ وہ اس بارہ میں کوئی بھی تردد کریں لیکن معلوماتی مشکل ہے۔ دفتر تحریک جدید بار بار مجھے یہی لکھتا ہے کہ ہمارے پاس وہ ذرائع نہیں ہیں جن سے ہم معلوم کر سکیں کہ ان بزرگوں کی اولادیں کہاں چلی گئیں ، کون لوگ تھے، کہاں جاسکتے ہیں زندگی نے ان کو کہاں منتخب کیا آخر اس وقت وہ کہاں موجود ہیں۔ اس لئے ہم ان سے رابطہ نہیں کر سکتے سارا سال کھوج لگاتے ہیں جن کے متعلق پتا لگتا ہے کہ یہ قربانی کرنے والوں کی اولاد میں سے ہیں تو ان کو لکھتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے فوری طور پر ان کا کھاتہ دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے تحریک ( جدید ) کو یہ نصیحت کی تھی کہ آپ ان کے نام پتے ان خاندانوں کا ذکر جہاں تک آپ اکٹھا کر سکتے ہیں وہ شائع کر کے دنیا کی ساری جماعتوں میں بھجوائیں تا کہ جماعتیں اعلان کریں ہمارے پاس اولین قربانی کرنے والوں میں سے وہ لوگ جو وفات پاچکے ہیں جن لوگوں کے کھاتے بند ہیں جن کی لسٹیں آگئی ہیں ان کا ذکر کس گاؤں کے تھے ان کا خاندان کون سا تھا ساری معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔ اگر کسی احمدی دوست کو معلوم کرنے کے لئے دلچسپی ہو، تمنا ہو کہ اپنے آباؤ اجداد کا نام بھی اس قابل فخر فہرست میں دیکھیں تو وہ ہم سے معلوم کریں اور علاوہ ازیں بھی جہاں تک ممکن ہے تھوڑا تھوڑا کر کے بار بار ہر خاندان تک وہ فہرست پہنچانی چاہئیں خواہ کوئی دیکھنے کے لئے توجہ کرے یا نہ کرے، کوئی وقت دے یا نہ دے جماعت کو چاہئے کہ پھر وہ فہرست تمام احباب کو پہنچائیں اور بتائیں کے کون کون لوگ تھے۔ اس طرح امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی سارے کا سارا کھاتہ یک دفعہ زندہ ہو جائے گا لیکن میرے علم میں ابھی تحریک جدید کی طرف سے یہ رپورٹ نہیں آئی کہ انہوں نے یہ محنت کی ہو۔ اس لئے میں نہیں جانتا کہ وہ کسی رنگ میں تلاش کر رہے ہیں کس طرح تلاش کر رہے ہیں، لیکن ایسا مشکل کام نہیں ہے جو ہو نہ سکتا ہو۔ اس لئے میں یہ کام اب تحریک جدید انجمن کے سپرد کرتا ہوں نہ کہ شعبہ مال کے کہ وہ اپنے ایجنڈے پر اس بات کو