خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 675

خطبات طاہر جلد 1 675 خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۸۷ء کے سوا ہو کون سکتا ہے۔ میں تو صرف اس خوش نصیبی سے فائدہ اٹھا رہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ میرا جسم آپ کے ساتھ لگے، مس ہو، میں اپنے ہاتھوں سے آپ کے پیارے جسم کو ٹولوں ۔ یہ قیمتیں کہاں نصیب ہوا کرتیں ہیں۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے سوا کون پوچھ سکتا ہے جسے دنیا میں کوئی بھی نہیں پوچھتا ۔ آج اگر بازار میں بیچنے جائیں تو کوئی میرا خریدار نہیں ہوگا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ہرگز نہیں آسمان کا خدا تمہاراخریدار ہے۔ تم اس کی نظر میں محبوب ہو اور اس کی نظر میں عزت رکھتے ہو ۔ ( مسند احمد جلد ۳ صفحه 161 مطبوعہ بیروت) یہ اسلام ہے، یہ وہ اسلام جو ہم نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا۔ اگر یہ اسلام لے کر آپ امریکہ کی گلیوں اور بازاروں میں نکلیں تو اس اسلام نے بہر حال غالب آنا ہے۔ کوئی دنیا کی طاقت اس اسلام کی کشش سے قوموں کو بچا نہیں سکتی پھر ۔ کشاں کشاں وہ آپ کی طرف چلے جائیں گے کیونکہ آپ محمد مصطفی کے خلق کے ایلچی بن جائیں گے۔ محض آپ کے پیغام کے زبانی ایلچی نہیں رہیں گے اور آج کی دنیا زبانی پیغاموں کے سفیروں کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتی ۔ آج تو بڑی بڑی طاقتوں کے سربراہ بھی اب ان صلحوں کے جھوٹے سفیر اور محبت کے جھوٹے سفیر ہیں ۔ آپ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق کے سچے سفیر بن کے دیکھیں کہ آپ کو خدا کیسی عظمتیں عطا کرتا ہے اور ان لوگوں سے پیار کرنا سیکھیں۔ میں تو جب بھی ان سے ملتا ہوں میرے وہم وگمان میں بھی کوئی رنگ کا فرق نہیں آتا۔ نہ مجھے کالے نظر آتے ہیں نہ مجھے سفید نظر آتے ہیں۔ مجھے تو اللہ کے نور سے مزین دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایسے ایسے لوگ میں جانتا ہوں جن کا عشق خدا سے دل بھرا ہوا ہے اور راتوں کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ۔ ہیں۔ غربت کے باوجود خدا کی راہ میں مالی قربانی میں پیش پیش ہیں ایسی محبت رکھتے ہیں احمدیت سے کہ ان کے چہرے بشرے سے جھلکتی ہے، ان کی آنکھوں سے ڈھلکتی ہے آنسو بن کے بعض دفعہ جذبات سے بے قابو ہو کر اس طرح سینے سے لگتے ہیں کہ سسکیوں کی آواز سے کچھ سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ میں تو ان کو دیکھتا ہوں میں خدا کے نور کے سوا ان میں اور کوئی چمک نہیں دیکھتا۔ بے اختیار میرا دل ان کی محبت میں اچھلتا ہے۔ میری روح ان کے پیار سے وجد کرنے لگتی ہے۔ آپ نے بھی تو میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور میں نے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم