خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 57

خطبات طاہر جلد ۶ وَ مَا يَشْعُرُونَ 57 خطبه جمعه ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء (البقره: ۱۰) بیوقوفوں کو پتہ ہی نہیں کہ خدا سے چالاکیاں ہو نہیں سکتیں اور اگر وہ مومن ہیں تو ایسے سخت لفظ میں اللہ نہیں فرماتا لیکن تقدیر اس پر ہنستی اور مسکراتی ضرور ہو گی کہ کس کو غلط خبریں دے رہا ہے۔ جس کو پیش کر رہا ہے وہ خلیفہ تو نہیں ہے وہ تو خدا ہے اور خدا سے کچھ چھپا ہوا ہی نہیں ہے۔ اس لئے یہ چالاکیاں ہیں ہی بے کار، بے معنی ہیں ۔ اگر اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کوشش کریں گے تو لازماً کل وعدے سے زیادہ رقم آنی چاہئے اور ضرورت بھی زیادہ کی ہے۔ اس لئے اگر جماعت انگلستان کا وعدہ دس لاکھ کا تھا جس میں سے تقریباً نصف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پورا فرما بھی چکے ہیں تو بقیہ آپ کی جماعت میں ایسے نوجوان ہیں جو بعد میں آکر برسر روزگار ہوئے ۔ گزشتہ بارہ سال میں نئی نسلوں میں سے بہت سے نوجوان ہیں جو اس تحریک کے آغاز کے بعد برسرِ روزگار ہوئے اور غلطی سے وہ اس وعدے میں شامل نہیں ہو سکے، لاعلمی کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے ۔ بہت سے ایسے ہیں جو پہلے اخلاص کے معیار میں کمزور تھے اور اب خدا کے فضل سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں ۔ وہ سابقہ اخلاص کے معیار کی کمزوری کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے۔ بہت سے نئے احمدی ہوئے ہیں اور ان کو مالی قربانی میں فوراً شامل کرنا ان کی زندگی کیلئے ، ان کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ ان کی طرف توجہ دینا ضروری ہے ان کو بتانا چاہئے کہ اتنی عظیم الشان تحریک جو سو سالہ جشن سے تعلق رکھتی ہے اور گزشتہ سو سال کی تاریخ میں آپ کی قربانی شامل ہو جائے گی۔ احمدیت کے آغاز کے پہلے دن سے لے کر اس جشن کے سال تک خدا تعالیٰ آپ کی قربانی کو سارے سالوں پر پھیلا دے گا کیونکہ آپ کی نیت Back Dated قربانی کی بھی ہے ماضی سے تعلق رکھنے والی قربانی بھی۔ تو اتنی عظیم الشان قربانی کا وقت ہو اور آپ ان بے چاروں کو محروم رکھیں جو نئے خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہوئے ہیں، یہ بھی نا جائز بات ہے، یہ ظلم ہے ان لوگوں پر ۔ اس لحاظ سے جب ہم دیکھیں تو وعدہ بڑھانے والی بہت سے شکلیں دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے مقابل پر ایک وعدہ کم ہونے والی شکل بھی ہے۔ بعض لوگ اس چودہ سال کے عرصے میں وعدہ کر کے فوت ہو گئے اور وہ ابھی وعدہ پورا نہیں کر سکے یا جماعتیں چھوڑ کر کسی اور جماعت میں چلے گئے ۔ ان دو شکلوں پر اگر غور کیا جائے تو جو لوگ فوت ہو چکے ہیں ان سے بہت زیادہ یہ نئے آنے والے