خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد ۶ 576 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۸۷ء جمعہ کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر سفر میں پڑھا جا سکتا ہے تو پڑھنے کی اجازت ہے اور اگر دقت ہو تو نہ پڑھنا نا پسندیدہ نہیں یعنی ایسا معاملہ ہے جو بالکل بین بین ہے اگر چھوڑنا پڑے تو چھوڑ بھی دیا جائے ۔ چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اسی بنا پر کہ اس حصے سے بھی استفادہ کرنا چاہئے اور اس حصے سے بھی بعض اوقات سفر میں جمعہ پڑھا اور بعض اوقات نہیں پڑھا۔ تو اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے ایک جمعہ آخری جو تھا گویا اس جمعہ سے پہلے وہ ہم نے بھی نہیں پڑھا صرف ظہر کی نماز اس دن پڑھی گئی۔ اس دوران جماعتوں سے تفصیلی ملاقات کا بہت موقع ملا انفرادی طور پر ، خاندانوں سے بھی ا اور مجالس عاملہ کے ساتھ بیٹھ کر عمومی حالات کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ ایک خوشی کی بات تو یہ ہے کہ بالعموم مسلسل جماعت کے ساتھ افراد جماعت کا تعلق بڑھ رہا ہے اور خلوص میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اجتماعیت پیدا ہو رہی ہے ، قربانی کا جذبہ بڑھ رہا ہے اور تبلیغ کا شوق بھی پہلے کی نسبت نمایاں زیادہ ہے۔ یہ پہلو جو بالعموم ترقی کا رجحان ہے اس کا یہ پہلو بہت خوش کن ہے اور تسلی بخش ہے اللہ تعالی کا بڑا فضل ہے اس کا احسان ہے وہ جماعت کو محض ایک وقتی جوشیلی ترقی کی بجائے مستقل ترقی کا رجحان عطا فرما رہا ہے ورنہ وقتی طور پر تو بعض دفعہ ایسی قو میں بھی جو بگڑ چکی ہوں بعض نیک کاموں کے وقت اچانک اچھلتی ہیں اور ان کا قربانی کا معیار ایک دم بڑھ جاتا ہے لیکن بالعموم اسی تیز رفتاری کے ساتھ پھر وہ واپس بھی پہنچ جاتی ہیں۔ تو ایسی وقتی قربانی گوخوش کن تو ہوتی ہے، خوش منظر تو پیدا کرتی ہے لیکن قوموں کے احیاء کے لئے کافی نہیں ہوا کرتی۔ اس لئے لازما ایسی قربانی طلب کرنی چاہئے اللہ تعالی سے جو زندگی کا دائم حصہ بن جائے ، جو انسان کی فطرت ثانیہ بن جائے اور وقتی حالات سے متاثر تو ہو لیکن اچھے رنگ میں اور جب وہ حالات گزر جائیں تو واپس پہلے مقام پر گر نے کی بجائے اور آگے بڑھتی رہے۔ یہ رجحان جماعت میں پیدا ہونا چاہئے اور الحمد للہ کہ پیدا ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند سال میں ، اس عرصے میں جب مجھے تفصیل سے جماعت سے تعلق کا موقع ملا ہے تو میں بہت مطمئن ہوں اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتا ہوں کہ وہ جماعت کو ایک مسلسل ترقی کے دور میں داخل فرما چکا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی جو کمزور حصے ہیں ان پر نظر رکھنی بھی ضروری ہے اور خواہ کوئی ترقی کے کسی بھی مقام پر کھڑا ہوا سے آخری مقام قرار دیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ آخری مقام موت ہے،