خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 571

خطبات طاہر جلد 1 571 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۸۷ء مصیبت بنی رہے ہر طرف سے پھر مطالبے ہوں گے، پھر کیسٹ کو Duplicate کروانا ہوگا پھر آگے تقسیم کرانا ہوگا۔ تو کسی ملک میں کوئی کمزوری نظر آرہی ہے، کسی میں کوئی کمزوری نظر آرہی ہے اور جماعت کو پوری طرح آگاہ نہیں رکھا جا رہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کیا ہتھیار مہیا فرما دیئے ہیں۔ جہاں استفادہ ہوتا ہے اور جرمنی میں بہت حد تک ہوتا ہے وہاں بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے زیادہ سے زیادہ دس فیصد داعی الی اللہ بنے ہوں گے اس سے زیادہ نہیں ۔ مگر جو کرتے ہیں وہ ایسے ایسے لوگ ہیں جن کو جرمن زبان یا ٹرکش زبان تو کیا اُردو بھی نہیں ٹھیک آتی ۔ ایک خط میں اُردو کے ساتھ دس پندرہ پنجابی کے لفظ ملا کے لکھتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اللہ ان کو پھل عطا فرما رہا ہے۔ ان کی تبلیغ کو پھل لگ رہے ہیں بعض ایسے آدمی جن کو کسی چیز کا بھی زیادہ علم نہیں ۔ عربوں کو تبلیغ کر کے، ان کو کام کامیابی کے ساتھ تبلیغ کر کے ان کو احمدی بنا چکے ہیں۔ بعض ٹرکس (Turks) کو احمدی بنا چکے ہیں۔ ابھی جب میں جرمنی میں ایک دن کے لئے ٹھہرا تھا ہمبرگ میں ۔ وہاں اسی طرح ایک ۔ احمدی دوست تھے حالانکہ ان کوٹر کی زبان نہیں آتی ایک ٹرک (Turk) کو لے کر آئے ہوئے تھے، جو اپنی مسجد کا عالم تھا اور بڑا با اثر انسان تھا ، اس کو لے کر آئے اور پتا یہی چلا کہ وہ ٹرکی زبان کی کیسٹس کے ذریعے کچھ اشاروں سے کچھ اپنے محبت کے اظہار کے ذریعے اس سے تعلق قائم کر چکے تھے اور وہ آیا اور اس نے ملاقات کے دوران بار بار یہ اظہار کیا کہ اب میں باہر نہیں رہوں گا میں بیعت کر کے سلسلے میں داخل ہوں گا اور نہایت ہی محبت سے اس کا چہرہ جو تھا تمتما رہا تھا۔ تو ایک عام آدمی جس کو ایک زبان ہی نہیں آتی ، اس کو زیادہ دینی علم بھی نہیں ہے اس کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرما دی اس لئے کہ اس کا جذ بہ خلوص سچا تھا ، اس لئے کہ اس کے دل کے بے قرار تمنا تھی ، اس لئے کہ وہ دعا کرتا تھا اور پھر ایک خوبی جو ہر داعی الی اللہ میں ہونی ضروری ہے وہ اس میں موجود تھی کہ زبان کا میٹھا تھا ۔ علم سارا بیکار ہو جاتا ہے اگر ایک انسان مشتعل مزاج ہو، اگر مغلوب الغضب ہو تو دنیا کے کسی کام کا بھی نہیں رہتا۔ خصوصا اس وقت جب غیر سے مقابلہ ہو اُس وقت تو بہت ہی زیادہ تحمل ہونا چاہئے۔ اپنے جذبات پر کنٹرول اور حوصلے سے اس کی دشمنی کی بات کو سننا اور پھر محبت اور پیار سے اس کو سمجھانا اور جواب دینا یہ وہ ایسا ایک سلیقہ ہے تبلیغ کا جو اگر کسی کو آجائے تو بہت بڑے بڑے