خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 513
خطبات طاہر جلد 1 513 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء پنجاب کے علاوہ بھی دوسرے مختلف ملک کے حصوں میں اس قسم کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ سرگودھا اور خوشاب کا علاقہ ہے جو بد نصیبی میں اس وقت سارے پاکستان سے آگے بڑھا ہوا ہے۔ مگر بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ملک کے مختلف حصوں میں ایسے ایسے واقعات کی رپورٹیں آئے دن آتی رہتی ہیں گو نسبتاً کم ۔ کراچی سے ایک دوست نعیم احمد صاحب لکھتے ہیں کہ :۔ وو میں بہاولپور سے سکھر تک ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ( مگر یہ واقعہ پنجاب کا ہی لگتا ہے یا سندھ اور پنجاب دونوں میں مشترکہ ہے۔ ہیں یہ کراچی کے مگر واقعہ اس طرف کا لکھ رہے ہیں ) دورانِ سفر آپس میں تعارف ہوا باتیں شروع ہوئیں اور جب ان کو یہ پتا چلا کہ میں احمدی ہوں تو ایک شخص نے شدید بد زبانی شروع کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف نہایت گندی زبان استعمال کی اور پھر مجھے مارنا شروع کیا اور اس کے ساتھ ایک دو اور ساتھی بھی شامل ہو گئے اور جب میں خدا یا قرآن کا نام لیتا تھا تو مجھے اور بھی مارتے تھے کہ تم خدا اور قرآن کا نام لینے والے ہوتے کون ہو؟ چنانچہ جب مارتے مارتے تھک گئے ) کہتے ہیں ) میں نے درود شریف بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا اس پر اور بھی مشتعل ہو گئے اور کہا کہ ابھی ہم تمہیں گاڑی سے باہر دھکا دیتے ہیں ۔ ( چونکہ گاڑی چل رہی تھی اور تیز رفتار سے عموما چلتی ہے لائن پر اس لئے اس بات کا بھاری احتمال تھا کہ اگر اس کو دھکا دیا جاتا تو وہ اس صدمے سے بچ نہ سکتا۔ لیکن وہ یہ لکھ رہے ہیں واقعہ در اصل وہ شکایت کے رنگ میں نہیں لکھ رہے اللہ تعالیٰ کی غیر معمولی تائید کے اظہار اور تشکر کے لئے واقعہ لکھ رہے ہیں ۔ کہتے ہیں ) جونہی اس نے یہ کہا پیشتر اس کے کہ وہ مجھے گاڑی سے باہر نکالتا بجلی بند ہو گئی اور معلوم ہوتا ہے اس سے کچھ خرابی ایسی پیدا ہوئی ہے انجن وغیرہ میں کہ ان کو ، انجن والوں کو، گاڑی روکنی پڑی اور بجلی بند ہو کر جب انہوں نے مجھے دھکا دیا تو کھڑی گاڑی سے