خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 499
خطبات طاہر جلد 1 499 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء سے کوئی شخص اپنا تعلق توڑ کے باہر جا رہا ہے اور جھگڑا ہی ہر وقت اس کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح میں اپنی امارت جتاؤں، ثابت کر کے دکھاؤں کہ میں امیر ہوں ۔ امارت کے آداب سکھانا اس کا فرض ہے ، ضروری ہے اس کے لئے کہ ان کی تربیت کرے اور جماعت کے عالمی نظام کا ایک جزو لا ینفک بنادے لیکن امارت جتا کر نہیں بلکہ محبت کے ساتھ اپنی امارت کو ان کے دلوں پر حاوی کر کے۔ یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں ۔ اعلیٰ درجے کے امراء ، جو جماعت میں پیدا ہوئے اور ابھی بھی ہیں اور آگے آئندہ بھی خدا کے فضل سے پیدا ہوتے رہیں گے، ان کے ہاں آپ کو کہیں بھی امارت جتانے کا کوئی لمحہ دکھائی نہیں دے گا۔ وہاں تو یہ شکل بنتی ہے کہ اپنے احکامات کو حکم کہنے سے وہ شرماتے ہیں یوں لگتا ہے جس طرح بھائی سے ایک عاجزانہ درخواست کر رہے ہیں لیکن آگے ان کی امارت میں شامل احمد یوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اشاروں کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ جدھر اشارہ کرے وہاں آگے بڑھ کر ہم ان کی اطاعت میں اعلیٰ جو ہر دکھا ئیں ۔ یہ ہے وہ مضمون جس کو قرآن کریم میں بیان فرمایا کہ تم اِخْوَانًا ہو گئے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ پس جو امیر جماعت کو بھائی بھائی نہیں بناتا یا بھائی بھائی بنانے کی کوشش نہیں کرتا یا یوں کہنا ہاہے کہ مقدور بھر کوشش نہیں کرتا وہ یقیناً خدا تعالیٰ کے ہاں پوچھا جائے گا۔ ہم ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہماری ذمہ داریاں بہت تیزی سے پھیلنے والی ہیں۔ بالکل ایک نیا دور آنے والا ہے جماعت کے لئے۔ بہت تیز رفتاری پیدا ہونے والی ہے ہماری ترقیات میں۔ بہت نئے رستے ہیں جو خدا کی طرف سے اب کھولے جا رہے ہیں جن کے اندر جب خدا کی تقدیر کی کنجیاں گونجتی ہیں تو میں ان کی آواز سن رہا ہوتا ہوں ۔ ایسے رستے ہیں جو خدا دکھا رہا ہے کہ اب اس ملک میں بھی میں تمہارے لئے سامان پیدا فرما رہا ہوں ، اس ملک میں بھی تمہارے لئے سامان پیدا فرما رہا ہوں ۔ وہ کون لوگ ہیں جو ان ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے؟ آج کی امارتیں ہی ہیں جنہوں نے آگے امیر بننے کی صلاحیتیں پیدا کرنی ہیں ، جنہوں نے قوموں کو لیڈ ر عطا کرنے ہیں اگر امیر اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکیں گے اور جماعتیں افتراق کا شکار رہیں گی تو کیسے وہ لوگ پیدا ہوں گے جنہوں نے تمام عالم کو ایک امت واحدہ میں تبدیل کر دینا ہے۔ اس لئے چونکہ امتِ واحدہ بننے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں اور وقت قریب آتا جا رہا ہے۔ اس لئے بہت ہی زیادہ ضرورت