خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد ۶ 46 خطبه جمعه ۱۶ جنوری ۱۹۸۷ء ذکر کر کے کہ میں نے نہیں دیا، اپنی چالاکی کا اظہار کر رہا تھا کہ میں نے روک لیا۔ خدا نے اس حالت میں اس کو وفات دی کہ اپنا سب کچھ جماعت کو دے کے مرا ہے، ایک پیسہ بھی کسی اور کو نہیں دیا۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان، ایک چھوٹا سا واقعہ گزرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی یادداشت تو کبھی مٹانہیں کرتی اور وہ ایک فیصلہ فرمالیتا ہے خدا اس کے اوپر اور اُسے پورا کرتا ہے۔ اور مجھے جو بیچ میں داخل کیا گیا ، ایک خلیفہ کو بیچ میں گواہ شہرایا گیا ہے کہ دیکھو یا د رکھنا میں اس طرح سلوک کیا کرتا ہوں ۔ وہ کتاب کا ملنا بھی اتفاقی تھا بظاہر اور پھر ان سے یہاں ملاقات ہو کر یہ ذکر چھیڑنا بھی بظاہر اتفاقی تھا مگر جو خدا تعالیٰ سے تعلق کے مضامین کو جانتے ہیں ان کو پتا ہے کہ یہ اتفاقات نہیں ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی تقدیریں چلتی ہیں حیرت انگیز طور پر یہ تقدیر جاری ہوتی ہے اور ہمارے ایمان کو ایک نیا ولولہ ایک نیا جوش دے کر خدا کے اور بھی قریب کر جاتی ہے۔ اس لحاظ سے مجھے ان سے گہرا ذاتی تعلق بھی پیدا ہوا۔ ان کا علاج بھی میں کرتا رہا ہوں ہومیو پیتھک اس سے خدا کے فضل سے فائدہ بھی پہنچا تھا ان کومگر بہر حال کلکتہ میں سفر کے دوران ان کی وفات ہوئی ہے۔ سید بشیر احمد صاحب پٹنہ کے ہیں۔ صوبائی تبلیغی منصوبہ بندی کمیٹی کے سیکرٹری ہیں۔ ان کے والد سید عبد الجبار صاحب کا وصال ہو گیا ہے اس لئے ان کی طرف سے درخواست ہے نماز جنازہ غائب کی۔ محمود احمد صاحب چیمہ مبلغ سلسلہ انڈونیشیا کی والدہ محترمہ بھی وفات پاگئیں ہیں ۔ وہ چونکہ جہاد کی حالت میں تھے اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کی والدہ حق دار ہیں ، ان کیلئے دعا کی جائے۔ ایک ہمارے مخلص احمدی دوست ہیں مکرم عبدالحمید صاحب قادیان کے ماسٹر چراغ دین صاحب مرحوم کے بیٹے ان کی اہلیہ کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔ اسی طرح شاہد کلیم احمد صاحب دار النصر غربی سے لکھتے ہیں کہ ان کے والد ماجد صو بیدار محمد مجید احمد صاحب وفات پاگئے ہیں۔ یہ جہلم میں فیکٹری جو تھی صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کی اس میں کام کیا کرتے تھے۔ ان کے بیٹے کو 1974 ء میں بہت ہی غیر معمولی بہادری کے ساتھ احمدیت کے لئے مار کھانے کی توفیق ملی اور غیر معمولی طور پر ان کو زود کوب کیا گیا یہاں تک کہ بعضوں کا خیال تھا کہ شاید بچ نہ کیں۔ لیکن کوئی ذرا بھی شکوہ نہ ان کی زبان پر آیا نہ ان کے والد پر بلکہ غیر معمولی بشاشت تھی اس واقعہ کی وجہ سے۔ اس لئے بھی صوبیدار صاحب خاص طور پر دعاؤں کے مستحق ہیں ۔