خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 494
خطبات طاہر جلد 1 494 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء بلکہ بعض اوقات ایسے دور میں جبکہ باقی جماعتوں کے لئے ابتلا کا دور ہوتا ہے اور بڑا ہی عظیم الشان ابتلا کا دور ہوتا ہے۔ان جماعتوں سے سلوک میں کچھ سزا کا رنگ بھی آجاتا ہے۔ وہ ان کی اپنی نا چاقی کی نحوستیں ہیں جو اس ابتلا کے دور میں خدا کی سزا کو کھینچنے لگ جاتی ہیں۔ چنانچہ آپ اگر آفاقی نظر سے جائزہ لیں حالات کا تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جہاں خدا تعالیٰ نے اتحاد عطا فرمایا ہے جماعت کو اور جہاں حبل اللہ کو جماعت نے مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے وہاں اللہ تعالیٰ غیر معمولی حفاظت کے سامان فرماتا ہے اور وہاں ان لوگوں سے کچھ اور سلوک ہور ہو رہا ہے ہوتا ہے خدا کا ان جماعتوں کی نسبت جو ہیں تو محدود چند لیکن اس پہلو سے بڑے نمایاں ہیں کہ سفید کپڑے پہ داغ کی طرح ہیں اور اُنہوں نے وحدت کو چھوڑ دیا ہے۔ اس مضمون پہ پہلے بھی میں کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں لیکن یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ بار بار آپ کے سامنے لایا جانا چاہئے۔ میں نے دیکھا ہے جب کسی مضمون پر خطبہ دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے چونکہ جماعت متقیوں کی جماعت ہے اسی لئے میں نے کہا کہ جماعت سے وابستہ ہوں گے تو آپ پر جماعت کا لیبل (Lable) لگ جائے گا ، یہی مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ چونکہ جماعت متقیوں کی جماعت ہے۔ اس لئے بڑی تیزی کے ساتھ اصلاح کی طرف مائل ہوتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر دل و جان کے ساتھ پوری محنت اور توجہ کے ساتھ کوشش کرتی ہے کہ ہر بات جو خلیفہ کے منہ سے نکلے اسے پورا کرے ۔ یہ جو غیر معمولی خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے اندر اخلاص اور ایمان کو پیدا فرمایا اور پھر اس اعلیٰ درجے تک پہنچا دیا، یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اعجاز ۔ یہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر ثریا پر بھی ایمان چلا گیا تو ان میں سے ایک شخص ہوگا ایک عظیم انسان ہو گا جو اسے واپس لے آئے گا ( بخاری کتاب تفسیر القران حدیث نمبر : ۴۵۱۸ ) ۔ پس یہ جو عظیم الشان ایمان کا مظاہرہ آپ دیکھ رہے ہیں جماعت میں اور اخلاص کا اور محبت کا اور اطاعت کا الله اور ادب کا یہ سب وہی دراصل حضرت اقدس محمد مصطفی کی پیشگوئی کو عملاً پورا ہوتے دیکھنا ہے۔ عروسة بہر حال میرا یہ تجربہ ہے کہ جب بھی توجہ دلائی جائے پھر جماعت فوراً توجہ کرتی ہے لیکن انسان کمزور ہے اور یہی توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ بعض دفعہ، کچھ عرصے کے بعد پھر بعض لوگ ان مقامات سے گرنے لگتے ہیں جہاں تک وہ پہلے ترقی کر کے پہنچتے ہیں اور بار بار بعض لوگوں کو توجہ دلانی