خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 43 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 43

خطبات طاہر جلد ۶ 43 خطبه جمعه ۱۶ جنوری ۱۹۸۷ء سے تعلق نہیں ۔ اگر ہم یہ مثال قائم کریں اس دفعہ کہ لجنہ اماء اللہ کی تعمیر میں مرد بھی حصہ لیں تو ایک اچھا خوبصورت منظر ہو گا کہ مرد اپنی مستورات کا اس حد تک خیال رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے سوچا کہ چونکہ مردوں پر بھی بہت بوجھ ہیں اس لئے اس موقع پر انجمنیں بھی کچھ نہ کچھ حصہ لیں اور ذیلی تنظیمیں بھی کچھ نہ کچھ حصہ لیں اس لئے تعیین تو میں نہیں کرتا لیکن اگر صد را نجمن احمد یہ اپنے حالات کا جائزہ لے کر کوئی تحفہ لجنہ کو پیش کرے اور تحریک جدید انجمن بھی کوئی تحفہ پیش کرے اور وقف جدید انجمن بھی کوئی تحفہ پیش کرے اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ بھی حسب توفیق ، تو مجھے امید ہے انشاء اللہ ہماری بہنوں کا بوجھ بہت حد تک ہلکا ہو جائے گا اور یہ بوجھ ہلکا کرنے سے خواتین کی عظمت کا احساس بھی جماعت میں پیدا ہو گا اور بالعموم جو مرد اور عورت کی ویسے دوری ہے مقابلے کی اس میں کمی آئے گی، ایک دوسرے پر اعتماد بڑھے گا اور ایک اچھی مثال قائم ہوگی۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ وہ اپنے طور پر تحریک کریں لیکن طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالیں۔ خواتین کے معاملے میں میں بہت احتیاط اس لئے کر رہا ہوں کہ میرا یہ تجربہ ہے کہ جب ان کو مخاطب کر کے کسی قربانی کی طرف بلایا جائے تو بالعموم وہ اپنی جان پر ظلم پر بھی آمادہ ہو جاتی ہیں لیکن آواز پر پر لبیک ضرور کہتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احدی خاتون میں اتنا قربانی کا مادہ ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ اگر طاقت سے بڑھ کر تحریک کروں گا تو وہ اپنی جان توڑ دیں گی لیکن اس تحریک میں ضرور حصہ لیں گی یہ وجہ تھی جو میں یہ ساری باتیں سوچنے لگا اور میں نے احتیاطیں کیں اور یہی وجہ تھی کہ اب تک میں ٹالتا بھی رہا مجھے پتا تھا کہ اور بہت سے بوجھ ہیں اس لئے اب اس وقت ان کے اوپر خصوصی تحریک کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے ۔ انہیں شرائط کے ساتھ میرا دل رضا مند ہو گیا ہے کہ میں اس تحریک کو عام کروں کہ جس حد تک توفیق ہے عالمی لجنہ اس چندے میں حصے لے اور غیر معمولی طور پر اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالے باقی جتنی رقم ہو گی انشاء اللہ وہ کچھ مرد طوعی طور پر پورا کریں اور کچھ انجمنیں پورا کر دیں اور دو سال کے اندر اندر یہ قرضہ جو بلی کو بہر حال واپس ہو جانا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری بہنوں کی جو ضرورت ہے دیرینہ وہ جلد پوری ہو۔ اگر چہ اس ہال کا نقشہ اس وقت تو یہ سمجھ کر بنایا گیا تھا کہ کافی بڑا ہے لیکن جس تیزی سے جماعت ترقی کر رہی ہے اس کے پیش نظر یہ ہال بھی زیادہ دیر تک بڑا دکھائی دینے والا نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے تکمیل تک ہی چھوٹا ہو چکا ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ