خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 318
خطبات طاہر جلد ۶ 318 خطبه جمعه ۸ مئی ۱۹۸۷ء ہے۔ شاید ایک مرتبہ دیکھا ہو مجھے یاد پڑتا ہے مگر بالعموم ان کو میں خواب میں نہیں دیکھا کرتا ، وہ آئی ہیں اور قد بھی بڑا ہے اور جسم میں عام زندگی کی حالت میں جو جسم تھا اس کے مقابل پر زیادہ شوکت نظر آتی ہے اور آپ آکے مجھے گلے لگتی ہیں لیکن گلے لگ کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور بغیر الفاظ کے مجھ تک یہ مضمون ان کا پہنچتا ہے کہ میں خود نہیں ملنے آئی بلکہ ملانے آئی ہوں اور ایک خیمے سے اس کے معا بعد حضرت پھو پھی جان نکلتی ہیں گویا کہ وہ ان کو ملانے کی خاطر تشریف لائی تھیں اور خواب میں ایسا منظر ہے کہ اور کچھ نہ کوئی بات ہوئی ہے نہ کوئی اور نظارہ ہے دائیں بائیں ، صرف خیمے سے آپ کا نکلنا اور بہت ہی خوش لباس ہے بہت ہی اچھی صحت ہے۔ آپ مجھے گلے لگتی ہیں اور اس قدر محبت اور پیار سے تی ہیں اور اتنی دیر تک گلے لگائے رکھتی ہیں کہ اس خواب میں حقیقت کا احساس ہو۔ یہاں تک کہ جب میری آنکھ کھلی تو لذت سے میرا سینہ بھرا ہوا تھا اور بالکل یہ محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی مل کے گئی ہوں لیکن اس میں ایک غم کے پہلو کی طرف توجہ گئی کیونکہ زینب نام میں ایک غم کا پہلو پایا جاتا ہے لیکن اس وقت یہ خیال نہیں آیا کہ یہ الوداعی معانقہ ہے۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ شاید جماعت پر کوئی ابتلاء آنے والا ہے اور ایک غم کی خبر ہوگی جس سے فکر پیدا ہوگی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل بعد سے جماعت کو اپنی حفاظت میں رکھے گا۔ چنانچہ ایک ملک کے امیر صاحب کو میں نے اسی تعبیر کے ساتھ خط میں یہ خواب لکھی کہ اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ملک میں یہ واقعہ ہونے والا ہے اطمینان رھیں اللہ تعالی اپنے فضل کے ساتھ حفاظت فرمائے گا۔ لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ واقعہ یہ اس خواہش کا جواب تھا جو میرے دل میں بھی بہت شدید تھی اور حضرت پھو پھی جان کے دل میں بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے وصال سے پہلے ملا دے اور معانقہ ہو جائے اور یہ معانقہ انت حقیقی تھا کہ جیسے جاتے ہوئے کسی کو انسان مل رہا ہو اور اتنا گہرا اس کا اثر اور لذت تھی کہ خواب کے بعد یہ احساس نہیں ہوا کہ خواب تھی اور چلی گئی بلکہ یوں آئیں ہیں جیسے حقیقی چیز کوئی واقعہ کے بعد پیچھے دل میں رہ جاتی ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میں ہماری ملاقات کا انتظام فرمادیا اور یہ الوداعی معانقہ تھا جو مجھے دکھایا گیا۔ حضرت پھو پھی جان کی شادی بہت بچپن میں یعنی گیارہ سال کی عمر میں حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب نواب مالیر کوٹلہ یعنی مالیر کوٹلہ کے نواب خاندان سے آپ تعلق رکھتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے، حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے بڑے