خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 293

خطبات طاہر جلد ۶ 293 خطبه جمعه ۲۴ را پریل ۱۹۸۷ء روزہ دار ہوں میں بے اختیار ہوں اب۔ اس وقت تم جتنا چاہو مجھ سے لڑوجتنی چاہوگالیاں دو میں نے آگے سے کچھ نہیں کہنا اس کے بعد آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے۔ روزے دار کی منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور خوشگوار ہے۔ پہلے روزے دار کی تعریف فرمائی ہے پھر فرمایا ہے کہ اس کے منہ کی بو اس روزے دار کے منہ کی بو مراد نہیں جو گالیوں سے ویسے ہی منہ متعفن ہوا ہے۔ اس روزہ دار کے منہ کی بو مراد نہیں ہے جو بد کلامی کرتا ہے یا ذکر الہی سے خالی رہتا ہے صرف گندے ڈکاروں کی بد بو ہے جس نے منہ کو ملوث کیا ہوا ہے۔ وہ بو مراد ہے جو خدا کی خاطر ہر بری چیز سے رکنے والا منہ ہے اس میں سے بھی طبعاً فطرتاً روزہ رکھنے کے نتیجہ میں ایک بو پیدا ہوتی ہے ۔ لیکن فرمایا کہ چونکہ اس منہ میں پاکیزگی داخل ہو چکی ہے خدا کی خاطر اس لئے اللہ تعالیٰ کو کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور خوشگوار معلوم ہوتی ہے اور وجہ بیان فرمادی کہ کیونکہ اس نے اپنا یہ حال خدا تعالیٰ کی خاطر کیا ہے۔ پھر فرمایا روزہ دار کے لئے دو خوشیاں مقدر ہیں۔ ایک خوشی اسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری اس وقت ہوگی جب روزے کی وجہ سے اسے اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوگی ۔ یہ جو ملاقات ہے اس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ مرنے کے بعد نصیب ہوگی ۔ ( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۷۱) لیکن بالعموم لوگ اس کا یہی مطلب سمجھتے ہیں کہ روزے کی خوشی تو اسی دنیا میں نقد مل جائے گی یعنی جب بھی ہم روزہ کھولیں گے تو دنیا کے رزق سے جو ملاقات ہو رہی ہے اسکے نتیجے میں خوشی میسر آئے گی اور خدا کی ملاقات ادھار رہتی ہے وہ مرنے کے بعد نصیب ہوگی یہ غلط ہے۔ روزے کے اندر جب خدا جزا ہے تو روزے کے دوران ہی وہ جزاء بنتا ہے ۔ کوئی ادھار کا سودا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ ۔اسی لئے روزے کے آخر پر لیلۃ القدر رکھی گئی ہے تا کہ اگر پہلے اسے دیدار نصیب نہ ہوا ہو تو لیلۃ القدر کے دوران جو ایک خاص معراج کی رات ہوتی ہے رمضان کی نیکیوں کی اس رات ہی اسے نصیب ہو جائے تو ایک چیز تو آپ کے اپنے اختیار میں ہے؟ ہے یعنی روزہ کھول لینا اور رزق کی لذت حاصل کرنا وہ جزاء ہے یا نہیں ہمیں اس کا علم نہیں جزاء تو تب ہم کو خدا پیار و محبت سے کہے کہ ہاں تم نے میری خاطر منہ بند رکھا تھا میری خاطر اس کو کھاؤ اس لئے ہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری جزاء ہے دوسری جزاء کے متعلق ہم یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ مرنے کے بعد پتہ چلے گا تو اس دنیا میں کیا پتہ کہ زے مقبول بھی : ں ہوئے یا نہیں اس لئے حقیقیہ اس لئے حقیقیت یہ ہے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ خدا جب جزاء