خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 280
خطبات طاہر جلد ۶ 280 خطبہ جمعہ ۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء سر پہ آئی کھڑی ہے بمشکل دو سال ، دو سال سے بھی کم عرصہ باقی ہے اس عرصے میں آپ نے کم سے کم ایک ہزار جرمن خدا کے حضور تحفے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ کوئی معمولی کام تو نہیں ہے لیکن اگر خدا کی محبت کا زاد راہ آپ لے کر چلیں گے تو بالکل معمولی کام ہو جائے گا۔ جو خدا کی خاطر خدا سے اس کی محبت کی خاطر یہ چاہے گا کہ خدا کے لئے ایک دل جیتے کسی غلام بندے کا کیسے ممکن ہے کہ خدا اس پر رحم کی نظر نہ فرمائے اس کی مدد نہ کرے، اس کے لئے راہیں آسان نہ فرمادے، خود اس کے بوجھ نہ اُٹھا لے یہ نہیں ہو سکتا ۔ لازماء ہو سکتا ۔ لازما خدا ایسے بندے کی بات میں اثر رکھ دے گا۔ اس کی اداؤں کو دلنشین بنادے صلى گا ، اس کی ہستی کو ایسی جاذبیت بخشے گا کہ لوگوں کے لئے اُسے رڈ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس لئے آپ اس طریق کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کریں آپ میں سے بہت سے ہیں جو پہلے ہی اس سفر سے آشنا ہیں ۔ جب مجھے خط ملتے ہیں تو خط کے دو چار سطروں سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس مقام کا آدمی ہے، کس تجربے کا آدمی ہے، کس قبیل سے تعلق رکھنے والا ہے۔ حروف پر مہریں ہوتی ہیں اور محبت الہی تو ایسی چیز ہے جو مہر کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتی ۔ محبت الہی رکھنے والا تو دوسروں کے لئے بھی خاتم ہو جایا کرتا ہے۔ چنانچہ خاتم النبیین کے سب سے اعلیٰ معنی یہی ہیں کہ محمد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاتمیت عطا کی گئی ہے اور ایسی جس سے دوسرے نبی گر سیکھیں ایسے جن سے دوسرے نبی محبت الہی کے راز حاصل کریں اور قدم قدم چلنا سیکھیں اتنا عظیم الشان نبی ہے یہ۔ تو خدا کی محبت کی ایک مہر ہوتی ہے وہ ضرور لگتی ہے، وہ ضرور اپنا نشان چھوڑتی ہے۔ تحریریں اس مہر سے زندہ ہو جایا کرتیں ہیں، اداؤں کی کیفیت بدل جایا کرتی ہے۔ ایک روحانی انقلاب انسان پر بر پا ہو جاتا ہے۔ پس اس دولت سے آپ استفادہ کریں اور ایک لمحہ زندگی کا اس فیصلے کے لئے صرف کر دیں کہ اے خدا! میں تیرا ہونا چاہتا ہوں ، میں نے فیصلہ کر لیا ہے بہت کمزور ہوں، بہت خامیاں ہیں ہو سکتا ہے بعد میں بھی مجھ سے کمزوریاں سرزدہوں مگر اپنا بنائے رکھنا، کبھی مایوس نہ کرنا اس پہلو سے، ہمت اور تقویٰ عطا کرنا کہ اگر تو میرے سوالوں کو رد بھی کرے تب بھی میں تجھ سے اسی طرح محبت کرتا چلا جاؤں اور کبھی تجھ سے بے وفائی کا خیال دل میں نہ لاؤں۔ خدا کرے کہ ہم اس سبق کو ہمیشہ کے لئے اپنے دلوں میں گرہ دے دیں، دلوں میں جانشین کر لیں ، دلوں کی تہہ میں بٹھا لیں کیونکہ دل سے ہو کر سارا خون گزرتا ہے اگر خدا کی محبت دل میں