خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 235 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 235

خطبات طاہر جلد ۶ 235 خطبہ جمعہ ۳ را پریل ۱۹۸۷ء تو تم فاسق ہو۔ اب محبت نہ کرنے کا تعلق فسق سے کیا ہے؟ یہ تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا۔ فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالیٰ کی اطاعت میں تھا۔ ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جس میں کوئی نقص ہو۔ اگر کوئی نقص ہوتا تو خدا تعالیٰ ہمیں کامل پیروی کا حکم نہ دیتا۔ جب خدا نے کامل پیروی کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ خدا کی رضا کے لئے ہے اور جو عمل خدا کی رضا سے باہر ہے وہ فسق ہے۔ پس یہ فسق کی تعریف قرآن کریم نے فرمائی جو محبت کے مضمون میں لپیٹ کر بیان کی ہے لیکن حیرت انگیز ہے۔ اگر تمہیں محمد رسول اللہ ﷺ اور اس قسم کی جہاد والی زندگی سے پیار نہیں جو رسول اکرم ﷺ نے زندگی بھر جہاد کر کے دکھایا تو پھر تمہاری یہ حالت فاسقوں جیسی ہے اور جہاں م علیہ جہاں تم اس سنت سے ہٹتے ہو وہاں فسق میں داخل ہو جاتے ہو اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ اب یہاں جہاد فی سبیل اللہ کی محبت کا ذکر فرمایا حالانکہ بظاہر انسان یہ سوچ نہیں سکتا کہ جہاد سے بھی محبت ہو۔ یہاں صرف تلوار کا جہاد مراد نہیں ہے۔ محبت کے نتیجے میں محبوب کو حاصل کرنے کے لئے ہر کوشش کا نام قرآن کریم نے جہا د ر کھا رہا ہے۔ صلى الله چنانچہ آنحضرت ﷺ کی محبت کے بعد جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر ایک تعلق میں یہ مضمون ظاہر کر رہا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے جس طرح زندگی گزاری اس زندگی کا ہر لمحہ جہاد تھا ہر وقت تو صلى آنحضرت ﷺ تلوار ہاتھ میں لئے نہیں پھرا کرتے تھے، ہر وقت تو تیر کمان ہاتھ میں نہیں رہتا تھا۔ شاذ کے طور پر جب غزوات میں آپ شامل ہوئے تو عملاً دشمن سے دو بد ولڑنے کا موقع بھی آپ کو میسر آیا مگر آپ کا جہاد اس وقت بھی تھا جب تیرہ سال کی مکی زندگی میں انتہائی مظلومیت کی حالت میں آپ زندگی گزار رہے تھے۔ پس جہاد صرف مارنے کا نام نہیں ہے اس سے بڑھ کر مار کھانے کا نام ہے اور خدا کے رستے میں دن رات اس کی محبت میں مگن ہو کر زندہ رہنے کا نام ہے۔ اس کے متعلق فرمایا اگر تمہیں ان چیزوں سے محبت نہیں ہے تو پھر تمہارا خدا سے محبت کا دعوی نہ صرف غلط بلکہ خدا کے نزد یک تمہاری زندگی فاسقانہ ہے۔ اب یہاں پہنچ کے بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو بہت سخت لگایا گیا ہے مگر محبت حکماً کیسے پیدا ہو سکتی ہے ؟ جیسا کہ میں نے پہلے سوال اٹھایا تھا۔ محبت اور حکم کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں ، آپ کو