خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد ۶ 219 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تقوی ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے ۔ (حوالہ کیسی حیرت انگیز بات ہے، کتنی میں درخت ہے دل چاہئے۔ ہے، پیار کی بات ہے اور کوئی شخص جسے تجربہ نہ ہو ایسی بات نہیں کر سکتا ۔ جس نے خدا کو عقلی دلیلوں سے ہے اور تجربہ نہ سکتا۔ سیکھا ہو یا خدا کا تصور عقلی دلیلوں کے ذریعہ باندھا ہو اس کے منہ سے یہ فقرہ جاری ہو ہی نہیں سکتا اس لئے لازماً یہ خدا کا کلام ہے، وہ سچا ہے جس پر یہ کلام جاری ہوا۔ تقویٰ ایک ایسا درخت ہے جس کو دل میں لگانا چاہئے ۔ ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تقویٰ کا مضمون بھی محبت الہی سے تعلق رکھتا ہے۔ محبت الہی کی بنا تھی جس کی وجہ سے آپ نے سنت کی پیروی کی اور اس سنت کی پیروی کے نتیجے میں ہر قدم پر آپ کو خدا کی محبت نصیب ہوئی اور آپ کا آخری مقصد خدا سے پیار کا اس کی مرضی تھی ۔ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا سے میری محبت اتنی شدید ہے، اتنی گہری محبت ہے کہ اگر خدا کی ساری جنتیں ، ساری نعمتیں ، خدا کی ساری نعمتیں ایک طرف ہوں اور خدا کی محبت کے لئے جہنم میں جانا پڑے تو میں جہنم قبول کرلوں گا اپنے لئے اور ان نعمتوں کے منہ پر تھوکوں گا بھی نہیں ۔ یہ کلام ایک ایسے شخص کی زبان سے جاری ہو سکتا ہے جو خدا کی رضا کے لئے اچھل رہا ہو روزمرہ اور آئندہ کا منتظر نہیں ہو، جو ان چیزوں میں سے گزر رہا ہو ، جوان لذتوں سے آشنا نہیں اس کے منہ سے تو یہ فقرہ جاری ہو ہی نہیں سکتا ۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے کلام میں جس میں سے چند اشعار میں نے پہلے بھی پیش کئے تھے آج ان میں سے ایک حصہ پھر پیش کرتا ہوں ۔ اس بات کو خوب کھول کر بیان فرمایا ہے۔ کہتے ہیں :۔ خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب که راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب در ثمین صفحه : ۱۵) پس خدا کی رضا کے لئے وہ سب کچھ کرتے ہیں اور خدا کی رضا کی جنت ہی ہے جس کے