خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 176
خطبات طاہر جلد ۶ 176 خطبه جمعه ۱۳ مارچ ۱۹۸۷ء میں خواہشیں پیدا ہو گئی ہیں ، جی چاہتا ہے ہم بھی حرکت کریں اور فعال وجود بن جائیں لیکن زادراہ کوئی نہیں۔ تو وہ زاد راہ ہے کیا جس کی قوت سے روحانی سلسلے چلتے ہیں؟ وہ تقویٰ ہے۔ اب اس جواب کی روشنی میں جب آپ ان سب پ ان سب حالات پر ت پر نظر ڈالیں جو جماعت پر گزر رہے ہیں تو ہر دفعہ یہی جواب ملے گا۔ جب متقی کے کان پر آواز پڑتی ہے تو صرف اُسکا وجود مرتعش نہیں ہوتا بلکہ متحرک ہو جاتا ہے۔ صرف لرزہ ہی نہیں طاری ہوتا اس کے وجود پر بلکہ مستقلاً وہ آگے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور جس نوع کا بھی کام آپ اس سے لینا چاہیں جس سمت اسے حرکت دیں وہ ایک نتیجہ خیز وجود بن جاتا ہے اور جب تقویٰ کی کمی ہو تو ارتعاش پھر بھی آجاتا ہے۔ بسا اوقات لاکھوں آدمی ایک جلسے پر کسی کا وعظ سن رہے ہوں ان کا وجود بعض نصائح سے متاثر ہو کانپ اُٹھتا ہے واقعہ ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے بدن میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے، آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہو جاتے ہیں لیکن جب وہ جاتے ہیں تو گنتی کے چند ہوں گے جن کے اندر وہ قوت کارفرما ہو چکی ہو جو ان کے وجود کے اندر پہلے ہی تھی لیکن مخفی تھی خوابیدہ حالت میں تھی اور پھر دوبارہ انہیں چنگاری کی ضرورت پیش نہیں آتی ۔ وہ جو ارتعاش ہے وہ ایک مستقل حرکت کی شکل اختیار کر لیتا ہے وہ آگے بڑھنے لگتے ہیں۔ تو اگر واقعہ ان بیویوں کا بیان درست ہے جو اپنے خاوندوں کا ذکر کرتی ہیں اور بڑے درد کے حالات لکھتی ہیں تو اگر ان کے اندر وہ تقویٰ نہیں ہے تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں کوئی کسی کا کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے لئے دعا مانگیں اور اسی لئے قرآن کریم نے تقویٰ کے لئے جو ہمیں دعا سکھائی اس میں عجیب بات ہے کہ عائلی زندگی کا خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا:۔ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اے خدا! ہمیں ہمارے جوڑوں سے دل کا چین اور آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔ قُرَّةَ أَعْيُنِ سے مراد دونوں چیزیں ہیں آنکھ کی ٹھنڈک یعنی دل کا چین اور سکون اور ہمیں متقیوں کے لئے امام بنا۔ یہ متقیوں کے لئے امام بنانے کی دعا بہت ہی حیرت انگیز سبق قوموں کے لئے اپنے اندر رکھتی ہے اور اگر چہ اس نسبت سے یہاں پہلا اطلاق اس کا اولاد پر ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی جتنی قو میں ہیں ان پر آپ نظر دوڑا کے دیکھیں لیڈر شپ اگر متقیوں کی نہیں ہے تو اسکی کوئی بھی