خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 158
خطبات طاہر جلد ۶ 158 خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۷ء تمہارے لئے دعا کروں ۔ زندگی میں اسی حالت پر یہ لوگ قائم رہے اور بعض ان میں سے اسی حالت صلى الله صلى الله علي سالم کی پر مرے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں آپ کے سامنے اور جو منافقوں کا سردار تھا وہ آنحضور عروسه زندگی میں آپ کی آنکھوں کے سامنے مرا اور اسی حالت میں مرا جس پر خدا نے گواہی دی تھی۔ اس کے متعلق آپ نے کیا سلوک فرمایا ۔ سیرۃ النبویہ لا بن ہشام جزء رابع مطبوعہ بیروت صفحه ۱۴۶، ۱۴۵ میں ایک حدیث ہے حضرت ابن عباس کی روایت سے جو سننے سے تعلق رکھتی ہے اس کا اس مضمون سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب صلى الله عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کواس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے بلایا گیا (یہ نازل ہو چکی ہیں اور عبد اللہ اول نمبر پر ان آیتوں کا مصداق تھا یہ سردار المنافقین کہلاتا تھا۔ مسلسل آیتیں نازل : صلى الله الله علوم انحضرت ﷺ کا رویہ اس کے ساتھ ایسا مشفقانہ رہا رہا کہ بعضوں کو یہ جرات ہوئی کہ آنحضرت صلے ﷺ کو اس کی نماز جنازہ کے لئے بلائیں ) حضور وہاں گئے اور جب اس کی نماز پڑھانے کے لئے کھڑے صلى الله صلى ہوئے تو حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں اپنی جگہ سے ہٹ کر آنحضرت ﷺ کے سینے کے سامنے دو بدو کھڑا ہو گیا ، قریب ہو کر بالکل قریب جا کر سینے کے سامنے اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی بن سلول کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جس نے فلاں دن فلاں بات کہی اور فلاں وقت فلاں بات کہی اس بات کا قرآن کریم میں ذکر بھی ہے۔ ( نہایت ہی خبیث نہ بات ہے اور گستاخی رسول اس سے زیادہ متصور نہیں ہو سکتی یعنی نہ صرف یہ کہ جھوٹے تھے اور منافق تھے بلکہ شدید گستاخ تھے یہ لوگ اور حضرت عمرؓ نے وہیں اس کی نعش کے سامنے یہ بات آنحضرت ہی کو یاد کروائی تھی ) ۔ حضرت عمر بتاتے ہیں کہ اس طرح میں اس کے ایسے واقعات گنوانے لگا کہ اس بد بخت نے یہ کہا ، یہ کہا، یہ کیا ، یہ کیا ، یہ کیا اور آپ آج اس کی نماز جنازہ کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اسی طرح مسکراتے رہے۔ عجیب حوصلہ ہے ہمارے آقا کا حیرت ہے۔ ایک ایک بات پر آنحضرت ﷺ کے دل عشق سے اچھلتا ہے۔ وہ ساری گالیاں سن رہے ہیں جو بد بخت نے دی ہیں سارے ذلت آمیز اس کے واقعات جو خود ذلتوں سے بھرے ہوئے تھے اور نعوذ بالله من ذالک ذلتیں آنحضرت علی کی طرف منسوب کر کر رہا رہا تھا تھا۔ وہ سنتے رہے جنازہ صلى الله