خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد ۶ 8 خطبه جمعه ۲ جنوری ۱۹۸۷ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ شخص یا وہ لوگ جن کو دل کے بخل سے بچالیا گیا ہے، جن کے دل کو خدا نے کشادگی عطا فرمادی ہے فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ۔ ۔ اب یہ واقعہ ہے جو میں بیان کر رہا تھا، بیان کیا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد اس واقعہ کی تحسین میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نزول فرمایا۔ وہ انصاری جو مہمان کو گھر لے گئے ، اس آیت کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے اگر چہ روایت میں درج نہیں کہ کوئی نئے مہاجر آئیں ہونگے کیونکہ اس کا انصار اور مہاجر سے خاص تعلق ہے۔ بہر حال جو بھی وہ تھے مہمان، آنحضور ﷺ نے ان کو اپنے ایک نہایت ہی عاشق غلام کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے گھر جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ کھانا تو صرف اتنا ہی ہے جتنا تمہارے لئے اور میرے لئے اور بچوں کے لئے مشکل سے پورا آسکتا ہے بلکہ اتنا بھی نہیں ہے۔ ہم تو گزارہ کر لیتے مگر میں ایک بہت ہی معزز مہمان لے کے آیا ہوں جو اللہ اور رسول کا مہمان ہے۔ اس لئے میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جس طرح بھی ہو سکے بچوں کو لوریاں دے کر سلا دو اور جب ہم کھانے پر بیٹھیں تو تم پلا مار کے دیا بجھا دینا پھر ہم منہ سے ایسی آوازیں نکالیں گے کہ جس طرح کوئی کھا رہا ہوتا ہے اور مہمان اس اطمینان سے کہ میرے میزبان بھی ساتھ کھا رہے ہیں خوب پیٹ بھر کے کھانا کھائے گا اور صرف اسی کو کافی ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جس وقت یہ واقعہ گزر رہا تھا اس وقت حضرت اقدس محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی خبر دی اور یہ آیت کریمہ اس واقعہ واف صلى صلى الله کی شان میں نازل فرمائی ۔ صبح : صبح نماز کے وقت آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان کیا کہ رات اس مدینہ میں ایک ایسا حسین واقعہ گزرا ہے، ایک ایسا دلکش واقعہ گزرا ہے کہ آسمان پر خدا ہنس رہا تھا اس واقعہ کو دیکھ کر اور خدا لذت پا رہا تھا اس واقعہ سے۔ (بخاری کتاب المناقب حدیث نمبر:۳۵۱۴) عجیب واقعہ ہے کہ وہ کھانا کہ جس کی لذت سے وہ محروم تھے جو کھانا پیش کر رہے تھے، اس کی لذت آسمان پر خدا محسوس کر رہا تھا۔ وہ روحانی لذت جو انکو محسوس ہوئی یہ اسی لذت کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا ہی انہوں نے کیا اور مہمان نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اپنی طرف سے، اس اندھیرے میں جس میں مہمان بھی ان کو نہیں دیکھ رہا تھا ، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پوری طرح دنیا کی ہر دوسری چیز کی نظر سے غائب ہیں ، اوجھل ہیں اور اللہ تعالیٰ اس چیز کو دیکھ بھی رہا تھا، اس چیز سے لطف