خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 855
خطبات طاہر جلد ۵ 855 خطبه جمعه ۲۶ دسمبر ۱۹۸۶ء روٹی کے بعد وہ تو شراب میں غرق ہو جاتا ہے یا ایسی دلچسپیوں میں غرق ہوتا ہے جن کے بغیر زندگی ممکن ہے بلکہ اچھی بھلی زندگی کٹ سکتی ہے ۔ اس وجہ سے ان کا سال کا آخر بھی یہیں پر آکر ، اسی مرکزی نقطہ پر آکر ختم ہوتا ہے کہ شرا ہیں جو ہم پہلے نہیں پی سکے تھے وہ اب پی جائیں۔ جو عیش و عشرت پہلے نہیں کر سکے تھے وہ اب کر جائیں۔ سال ختم ہو رہا ہے اس سال کو ہم شرابوں میں غرق کر دیں اور ڈبودیں۔ چنانچہ جتنا خرچ کرسمس کے دنوں میں یا جن علاقوں میں عیسائی نہیں ہیں اور مادہ پرست قومیں ہیں، وہ کرسمس کے بغیر بھی دسمبر میں شراب پر خرچ ہوتا ہے اتنا شاذ کے طور پر کسی اور مہینہ میں خرچ ہوتا ہو یا پھر جنوری کی پہلی تاریخ میں ہوتا ہے یعنی نئے سال کا آغاز تو جن کا فلسفہ حیات یہ ہے کہ یہی دنیا ہے اسی میں ہم نے زندہ رہنا ہے، اسی میں مر جانا ہے، کوئی جواب طلبی نہیں ہے۔ ان کے سال کا آخر بھی شراب میں غرق ہو جاتا ہے، ان کے سال کا آغاز بھی شراب میں غرق ہو جاتا ہے اور تعجب کی بات ہے جہاں تک کرسمس کا تعلق ہے ایک نبی کی پیدائش کہا جاتا ہے کہ اس دن ہوئی اور ان قوموں کے نزدیک اس دن خدا کے اکلوتے بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اُس دن کو یہ اس طرح مناتے ہیں کہ اس دن اتنی شراب پیتے ہیں کہ کبھی بعض لوگ مہینوں میں اتنی شراب نہیں پیتے ہوں گے جتنی اس دن پی جاتی ہے یعنی نہ پینے والے بھی پیتے ہیں اس دن ۔ ہم چند دن ہوئے ایک مارکیٹ میں گئے دو تین دن پہلے کی بات ہے آخری دن تھا شا پنگ کا کرسمس سے پہلے کا ہم نے کچھ چیزیں خریدنی تھی۔ تو تعجب سے میرے بچوں نے دیکھ کے مجھے کہا کہ عجیب بات ہے کہ ان کا جو سٹاک اکٹھا کر رہے ہیں، زیادہ شراب ہی اکٹھی کر رہے ہیں یعنی تین چار دن کے لئے ٹرالیاں بھری ہوئی تھیں بوتلوں سے۔ تو سوال یہ ہے کہ اس موقع پر ایک احمدی کو کیا سوچنا چاہئے اور اسے کس طرح یہ آخری دن گزار نے چائیں ہمارا فلسفہ حیات تو یہ نہیں ہے مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ کہ ہم تو دنیا میں از خود زندہ ہوتے ہیں اور مرتے ہیں اور زمانہ ہی ہمیں مارتا ہے ہمارا کوئی کوشش کرنے والا خدا نہیں ہے، کوئی پیدا کرنے والا خدا نہیں ہے۔ کوئی مارنے والا خدا نہیں ہے ۔ ہمارا نظریہ حیات تو اس سے بالکل برعکس ہے ۔ اسلئے سال کا آخر ہمیں کس طرح