خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 831
خطبات طاہر جلد ۵ 831 خطبه جمعه ۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء دنیا میں تمہارے خدا کی طاقت کا دائرہ لازماً محدود ہے اس لئے تم بے شک جلدی کرو اور اس محدود دائرے میں جو کچھ کر سکتے ہو کر گزرو۔ تمہارے خدا کی کرسی کے دو پاؤں ایک ملک ہیں اور دو پاؤں بعض اسلام دشمن طاقتوں کے بیرونی ملکوں میں ہیں۔ لیکن ہمارے خدا کی کرسی تو زمین و آسمان پر محیط ہے وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ اس کی کرسی کے پائے ساری کائنات پر وسیع ہیں۔ تمہیں جلدی اس لئے ہے کہ اس کا وقت تھوڑا ہوگا کیونکہ دنیاوی خداؤں کی کرسیاں زیادہ دیران کے قبضہ میں نہیں رہا کرتیں۔ لیکن ہمیں کوئی جلدی نہیں کیونکہ ہمارے خدا کی کرسی ہمیشہ ہمیش کے لئے اس کے قبضہ میں ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس کرسی سے اس کو ہٹا نہیں سکتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرہ:۲۵۷) وہ نہ صرف یہ کہ اپنی کرسی کی حفاظت کرنا جانتا ہے بلکہ وہ حفاظت اس کو کبھی بھی نہیں تھکاتی ۔ ایک لمحہ کے لئے بھی وہ اس حفاظت کے تقاضوں سے غافل نہیں رہتا ۔ پس کہاں تمہارا خدا جس کا دائرہ اثر محدود اور جس کا زمانہ بھی محدود آج نہیں تو کل اس کی کرسی نے بہر حال جانا ہی جانا ہے۔ اس لئے جو افراتفری کے نمونے دکھاتے ہو، جو جلدی کرتے ہو کرتے چلے جاؤ ۔ جماعت احمدیہ نے بہر حال جیتنا ہے آخر کار لازم جیتنا ہے کیونکہ ہمارا خدا جیتنے والا خدا ہے ہمیں کوئی جلدی نہیں کیونکہ اس کی کرسی ساری دنیا پر ہی نہیں کل عالم پر ، کل کائنات پر محیط ہے۔ اور ہمیں اس لئے جلدی کوئی نہیں کہ اس خدا کا وا خدا کا وقت ہمیشہ ہمیش کے لئے ہے وہ ابدالاباد ہے اور ابد الآباد تک رہے گا پس ہم جس ابدی طاقت سے وابستہ ہیں ہم جانتے ہیں کہ ہمارے انتقام ہمارے بعد بھی وہ لیتا رہے گا۔ ضروری نہیں کہ ہر انتقام وہ ہماری زندگی میں خدا تعالیٰ لے ۔ دیکھو ایک عبد اللطیف کو افغانستان میں تم نے شہید کیا تھا آج تک وہ بد نصیب قوم اپنے دکھوں کے ذریعہ اس شہادت کی قیمت ادا کرتی چلی جارہی ہے۔ تم کیسے سوچ سکتے ہو کیسے وہم کر سکتے ہو، کہ 30 لاکھ احمدی مسلمانوں کو جو حقیقی اور سچے مسلمان ہیں جو سچے عاشق رسول ہیں جو سچے عاشق قرآن ہیں، ان کا قتل و غارت کرو گے اور تم سے حساب نہیں لیا جائے گا۔ اس دنیا سے نکل جاؤ اور اس دنیا میں تم سے حساب لیا جائے گا لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ دونوں جگہ لیا جائے گا۔ یہاں بھی لیا جائے گا اور وہاں بھی لیا جائے گا اور بالآخر لازماً مومنوں کے سینے صلى الله ٹھنڈے ہوں گے اور ہمیشہ ٹھنڈے رہیں گے۔